بھارت کے انتہا پسند مذہبی پنڈتوں نے سابق بھارتی اداکارہ اور 90 کی دہائی میں فلم نگری پر راج کرنے والی ممتا کلکرنی کا سنیاس مسترد کرتے ہوئے اداکارہ کو مذہبی عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کنّر اکھاڑا کی جانب سے مذہبی عہدیدار (مہامندلیشور) مقرر ہونے کے چند روز بعد ہی ممتا کلکرنی نے شدید مخالفت اور اندرونی اختلافات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کردی، جس میں انہیں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں ممتا کلکرنی نے بطور مائی ممتا نند گری اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جو عزت دی گئی تھی وہ میری 25سالہ تپسیا (عبادت) کیلئے تھی لیکن کچھ لوگوں کو میرے مذہبی عہدہ اپنانے پر اعتراض ہے۔ میرے بالی ووڈ کیرئیر کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا، اس کا افسوس ہے۔
سابق اداکارہ ممتا کلکرنی نے کہا کہ میں نے 25سال پہلے بالی ووڈ چھوڑ دیا تھا اور خود کو مکمل طور پر غائب کرلیا۔ میک اپ اور گلیمر سے اتنی دور کون رہتا ہے؟ میں نے اپنے گرو کے ساتھ 25سال کی عبادت کی، مجھے کیلاش یا ہمالیہ جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میرے سامنے ہی تمام دنیا موجود ہے۔
ممتا کلکرنی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرنے والے کٹر مذہبی رہنماؤں کو انا پرست قرار دیتے ہوئے سابق اداکارہ نے کہا کہ یہ لوگ آپس میں جھگڑتے ہیں اور سچائی سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ یہ عہدہ علم بانٹنے کا سرٹیفکیٹ تھا لیکن شاید یہ اشارہ ہے کہ مجھے پیچھے ہٹ جانا چاہئے۔ میں عہدہ شکرگزاری کے ساتھ واپس کرتی ہوں۔
یاد رہے کہ ممتا کلکرنی کی تقرری کے فوری بعد خود کو رشی اجے داس کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ممتا کلکرنی کو عہدہ دینے والے لکشمی نارائن ترپاٹھی کو عہدے سے ہٹایا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے قومی مفاد کے اصولوں کی خلاف ورزی کی اور ممتا کلکرنی کو مہا مند لیشور مقرر کیا جو بغاوت کے مقدمے میں نامزد ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








