امریکی حکام نے ہفتہ کی شب وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے کرلی ہے جوکہ ٹورنس، کیلیفورنیا کا رہائشی ہے۔
فائرنگ کا واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں اُس وقت پیش آیا جب تقریب شروع ہونے ہی والی تھی۔ اچانک فائرنگ سے ہال میں موجود سینکڑوں صحافی، اہم شخصیات اور اعلیٰ سرکاری حکام میں بھگدڑ مچ گئی اور لوگ جان بچانے کیلئے ادھر اُدھر چھپنے پر مجبور ہو گئے۔
واقعے کی تفصیلات اور ملزم
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزم کو ہوٹل کے اندر ہی گرفتار کر لیا گیا جہاں اس نے مبینہ طور پر میگنیٹو میٹر اسکریننگ ایریا کے قریب فائرنگ کی۔
Trump has released a security camera video showing Cole Thomas Allen, 31, the suspected shooter at tonight’s White House Correspondents’ Dinner, attempting to run past law enforcement and U.S. Secret Service Agents. pic.twitter.com/dupdRgNhX1
— World Monitor (@MonitorWarnow) April 26, 2026
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم ممکنہ طور پر ہوٹل کے ایک غیر محفوظ پچھلے کمرے میں داخل ہوا جہاں اس نے اسلحہ تیار کیا اور پھر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکرٹ سروس اہلکار ایک شخص کو ہوٹل کی راہداری میں زمین پر گرا کر قابو میں لے رہے ہیں جسے ذرائع حملہ آور قرار دے رہے ہیں۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار کے سینے پر گولی لگی تاہم وہ بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے تھا جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہا اور اسے کوئی جان لیوا چوٹ نہیں آئی۔
اہم شخصیات محفوظ
سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بال روم کو خالی کروا لیا۔حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے دیگر ارکان مکمل طور پر محفوظ رہے اور کوئی بھی براہِ راست خطرے میں نہیں آیا۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے کہاکہ سیکرٹ سروس اور دیگر اداروں نے بہترین کام کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔
سیکیورٹی پر سوالات
واقعے کے بعد واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کی سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ یہ مقام کئی برسوں سے اس اہم تقریب کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔
اگرچہ مرکزی ہال کو سخت سیکیورٹی حصار (ہارڈ سائٹ) قرار دیا جاتا ہے اور وہاں میگنیٹو میٹر اسکریننگ لازمی ہوتی ہے تاہم ہوٹل کے دیگر حصے عام مہمانوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ تفتیش کار اب ملزم کی نقل و حرکت کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کس طرح ایک نجی کمرے تک پہنچا وہاں اسلحہ تیار کیا اور آیا اسے کسی کی مدد حاصل تھی یا اس نے سیکیورٹی میں کسی خامی کا فائدہ اٹھایا۔
فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے ملزم کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم اتوار کی صبح تک اس کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








