امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشتبہ شخص نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنگ ڈنر کے دوران 15گز دور سے حملے کی کوشش کی، میرا خیال ہے کہ ہدف میں ہی تھا تاہم اس واقعے کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں ہفتے کی رات صدر ٹرمپ کی موجودگی میں ڈنر کے دوران فائرنگ ہوئی، خوش قسمتی سے صدر ٹرمپ اور تقریب کے دیگر شرکاء فائرنگ سے محفوظ رہے، تاہم حملہ آور گرفتار ہوگیا۔ واقعے کے بعد صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کی اور میڈیا کو حقائق سے آگاہ کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشتبہ شخص بہت سے ہتھیاروں کے ساتھ آیا تھا، سیکریٹ سروس نے بہادری سے فوری کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کرنے والے شخص کو گرفتار کیا۔ یہ انتہائی حیرت انگیز تھا جب ہم نے ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں دیکھنے کی کوشش کررہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ بری آواز ہے۔ اس شخص نے 15گز دور سے حملہ کیا، ایک اہلکار کو گولی لگی تاہم وہ بلٹ پروف جیکٹ کے باعث محفوظ رہا۔ جسے گولی لگی، میں نے اس سے بات کی، کئی سال میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب ری پبلکنز کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار شخص امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھتا ہے، جلد معلوم کریں گے کہ یہ واحد شوٹر تھا یا اس کے اور بھی ساتھی تھے۔ ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ 30روز میں اس سے بڑی تقریب ہوگی۔ ہم اپنی تقاریب منسوخ نہیں کریں گے۔ میرے خیال میں مشتبہ شخص نے یہ اقدام اپنے طور پر اٹھایا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








