ہالی ووڈ کے معروف اداکار مارک وہلبرگ کی نئی فلم پلے ڈرٹی نے شائقین کو مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ آیا یہ فلم دیکھی جائے یا نہیں۔ فلم آن لائن پرائم ویڈیو پر ریلیز کی گئی ہے۔
یہ فلم ایک ہیست کیپر یعنی چوری اور دوغلے منصوبوں پر مبنی ایکشن فلم ہے جس میں ہدایت کار شین بلیک کا مخصوص تیز و طنزیہ انداز، دلچسپ مکالمے، اور غیر متوقع مناظر شامل ہیں۔
بعض ناقدین کے مطابق فلم میں کہانی کی گرفت وہ مضبوطی نہیں جو شین بلیک کی پچھلی فلموں میں دیکھی گئی۔
مارک وہلبرگ کا مرکزی کردار پارکر ناظرین پر گہرا اثر چھوڑنے میں ناکام رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کردار میں وہ خطرناک کشش نہیں لا سکے جو اصل کردار کے مزاج کا حصہ تھی۔
بعض تبصرہ نگاروں کے مطابق اگر اس کردار کو رابرٹ ڈاؤنی جونیئر ادا کرتے تو نتیجہ زیادہ متاثرکن ہوتا جو کہ اس فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی ہیں۔
اس کے برعکس، اداکار لی کیتھ اسٹین فیلڈ ، روزا سالازار اور کیگن مائیکل کی نے اپنے پُرجوش اور مزاحیہ کرداروں سے فلم میں جان ڈال دی ہے۔ ان کے مناظر کو فلم کے بہترین لمحات قرار دیا جا رہا ہے۔
فلم کی آخری قسط کو خاص طور پر دلچسپ اور تیز رفتار قرار دیا گیا ہے، اگرچہ درمیان کا حصہ سست روی کا شکار ہے۔ فلم کی طوالت تقریباً دو گھنٹے سے زائد اور بے شمار ذیلی پلاٹ فلم کو غیرضروری طور پر پیچیدہ بناتے ہیں۔
بعض ناقدین نے فلم کے غیر ضروری تشدد اور زیادہ لاشوں پر بھی اعتراض کیا ہے، جن سے مرکزی کرداروں کے لیے ہمدردی پیدا نہیں ہو پاتی۔
مجموعی طور پر اگر آپ ہلکی پھلکی، ایکشن سے بھرپور اور مزاحیہ چوری کی فلم دیکھنا چاہتے ہیں تو پلے ڈرٹی ایک مناسب انتخاب ہے لیکن اگر آپ گہری کہانی اور مضبوط اداکاری کے متلاشی ہیں تو یہ فلم آپ کے لیے وقت کا ضیاع ثابت ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








