پنجاب کے ضلع اوکاڑہ پولیس اسٹیشن صدر 22 جے ڈی کی حدود میں ایک 20 سالہ شادی شدہ خاتون کو اس کے سسر اور دیور نے 50 ہزار روپے کے عوض فروخت کر دیا۔
متاثرہ خاتون، جس کا نام سدرہ بتایا گیا ہے اور جو دو بچوں کی ماں ہے، کو اوکاڑہ سے خانےوال کے علاقے کچا کھوہ میں موجود ایک بدنام گروہ کے حوالے کر دیا گیا جہاں اسے ایک ماہ تک مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کسی طرح وہاں سے فرار ہو کر اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے شوہر اکرام نے ڈی پی او کو درخواست دی جس پر کارروائی شروع کی گئی۔ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ہے۔
مزید یہ کہ ملزمان کے والدین نے بھی اپنے بیٹوں کے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمان کی والدہ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ اس کے بیٹوں نے انتہائی گھٹیا اور شرمناک فعل کیا ہے اور انہیں سخت سزا دی جائے، چاہے وہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو۔ والد نے بھی اس بات کی تائید کی کہ ان کے بیٹے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور استحصال کی سنگین مثال ہے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کی کمزوری کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس جرم میں ملوث تمام ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی شخص ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








