پابندی لگانے کی تیاریاں! کیا حکومت نے تحریک لبیک کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Maryam government decides to recommend federal ban on TLP; leaders to be placed in Fourth Schedule, assets seized
ONLINE

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو باضابطہ سفارش بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے سفارش میں موقف اختیار کیا ہے کہ ٹی ایل پی کی سرگرمیاں صوبے میں امن و امان کے لیے خطرہ بن رہی ہیں، اس لیے تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے لیے وفاقی سطح پر فوری کارروائی کی جائے۔

ذرائع کے مطابق سفارش میں تجویز دی گئی ہے کہ تنظیم کی مرکزی اور ضلعی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں پر مکمل نظر رکھی جا سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ٹی ایل پی سے وابستہ افراد کی تمام جائیدادیں، دفاتر اور دیگر اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے تنظیم کی تشہیری سرگرمیوں پر بھی مکمل پابندی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ٹی ایل پی کے تمام پوسٹرز، بینرز، وال چاکنگ، اور اشتہاری مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تنظیم کے تمام اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے جبکہ ان سے منسلک شخصیات کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔

 

حکومت کا مؤقف ہے کہ مذہب کے نام پر تشدد، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پنجاب میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ تحریک لبیک پاکستان پر سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے بھی اپریل 2021 میں پابندی عائد کی تھی جب تنظیم نے فرانسیسی سفیر کے خلاف احتجاج کے دوران ملک گیر مظاہرے کیے تھے، جس کے نتیجے میں کئی اموات اور درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت بھی ٹی ایل پی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں بعض سیاسی مفاہمتوں کے نتیجے میں اس پابندی کو ختم کر دیا گیا تھا۔

Related Posts