پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) نافذ کرنے اور پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو 70 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
اس وقت پاکستان پیٹرول پر 60 روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہا ہے اور کوئی جی ایس ٹی لاگو نہیں ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کی جاتی ہیں تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اگلے تین دنوں کے اندر 30 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کا حصہ ہے، جن کا مقصد ملک کے مالیاتی مسائل کو حل کرنا ہے۔
یہ تجاویز اُس وقت سامنے آئیں ہیں جب آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت حکومت کو کئی ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ کرنی ہیں۔
اس وقت پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن جی ایس ٹی کے نفاذ اور پی ڈی ایل میں اضافے کے ساتھ ایندھن کی قیمتوں میں آنے والے ہفتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے حکام اس وقت پاکستان میں ہیں تاکہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے ملک کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے سکیں۔ حالات سے باخبر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اتحادی حکومت آئی ایم ایف کی قرضہ شرائط کے تحت طے شدہ ریونیو اہداف کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








