لوگ اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں، کیا موٹا ہونا جرم ہے، مایا خان کاسوال

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی: پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان مایا خان نے وزن بڑھانے کے بعد جسمانی شرمندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزن بڑھنے پرڈیزائنرز نے کپڑے دینے سے انکار کر دیا، کام منسوخ کر دیا گیا،لوگ اتنے ظالم اور غیر انسانی کیسے ہو سکتے ہیں، کیا موٹا ہونا جرم ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں مایا خان نے باڈی شیمنگ کا سامنا کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے جسمانی خدوخال پر میسجز دیکھے ہیں، گالی گلوچ سنی ہے، میں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے، میں سوچتی تھی کہ لوگ اتنے برے کیسے ہوسکتے ہیں؟ وہ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں؟ ان میں اتنی نفرت کیسے ہو سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:

شہریار، مایا علی کی فلم پرے ہٹ لو بھارت میں عالمی ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

میزبان مایا خان کا کہنا ہے کہ وزن بڑھنے پرسانس لینے میں دشواری، تیزابیت اور بے روزگاری سب کچھ ایک ساتھ ہوتا ہے۔ لوگ پوچھتے تھے کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے؟ آپ کا وزن بہت بڑھ گیا ہے، اس سے میرا اعتماد ٹوٹ گیا، میں نے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا، میں نے باہر جانا چھوڑ دیا‘۔ ڈیزائنرز نے مجھے کپڑے دینے سے انکار کر دیا، کام منسوخ کر دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے وزن پر مجھے طعنے دیتے تھے، جسمانی خدوخال کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ لوگ اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں؟ میرا سوال یہ ہے کہ کیا موٹاپا جرم ہے؟ میں نے لوگوں سے میل ملاقات چھوڑ دی۔ باہر آمدورفت ختم کردی۔ ڈیزائنرز کے کپڑے دینے سے انکار اور کام منسوخ کرنے سے تکلیف ہوئی۔ 

Related Posts