کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) شہر میں قبرستان کی شدید کمی کے باعث اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اہم منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت شہر کی حدود سے باہر 500 ایکٹر کے چار بڑے قبرستان بنائیں جبکہ شہری حدود میں بھی ایک اضافی 25 ایکڑ کا قبرستان بنایا جائے گا۔
حکومت سندھ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے تجویز کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے منظور کی ہے تاہم اس کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی امکان ہے کہ جلد ہی اس کی منظوری دے دی جائے گی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام اس وقت کیے جانے لگا جب بار بار رپورٹس سے ثابت ہوا کہ موجودہ قبرستانوں میں کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اس پروجیکٹ کی حمایت کی جس کے نتیجے میں کے ایم سی اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطے کاروں کی میٹنگز ہوئیں۔
شہر کے اندر والا قبرستان شاید نئے تعمیر شدہ شاہراہِ بھٹو کے قریب بنایا جائے گا۔ فی الحال کراچی میں تقریباً 220 قبرستان ہیں جن میں سے 192 کو سرکاری طور پر مختص کیا گیا ہے۔ ان میں 173 مسلم قبرستان اور 19 غیر مسلم کمیونٹیز جیسے عیسائیوں اور ہندوؤں کے لیے شامل ہیں۔
مختص شدہ قبرستانوں میں سے 46 کے ایم سی کے زیرِ انتظام ہیں، 20 ڈی ایچ اے، کینٹونمنٹس یا سرکاری اداروں کے پاس ہیں جبکہ 112 نجی گروپوں، کمیونٹی تنظیموں یا سماجی اداروں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ 14 قبرستان آزادانہ طور پر چلائے جاتے ہیں۔
قبرستانوں کی کمی کا بحران: اعداد و شمار اور چیلنجز
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کے باوجود تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے دفن کی جگہوں کی کمی کا شکار ہے۔ موجودہ قبرستانوں کی گنجائش ختم ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہ منصوبہ اس مسئلے کا طویل مدتی حل ثابت ہو سکتا ہے۔
سندھ حکومت کی منظوری کے بعد کے ایم سی جلد ہی تعمیراتی کام شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف دفن کی جگہوں کی کمی دور کرے گا بلکہ شہر کی توسیع کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








