برطانیہ میں ایک بڑا سائبر سیکیورٹی انکشاف سامنے آیا ہے، ملزمان نے 5لاکھ افراد کا حساس طبی ڈیٹا چینی ویب سائٹ پر فروخت کیلئے پیش کردیا۔ ڈیٹا چوری کی شکایت سامنے آنے پر برطانوی حکام نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس غیر قانونی پیشکش سے متعلق تمام اشتہارات ہٹا دیے اور معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
برطانوی ماہرین صحت اور متعلقہ اداروں کے مطابق یہ معلومات یو کے بایو بینک سے حاصل کی گئی تھیں، جو 2003 سے دنیا بھر میں طبی تحقیق کے لیے استعمال ہونے والا ایک بڑا اور اہم ڈیٹا ذخیرہ ہے۔ اس میں افراد کی جینیاتی تفصیلات اور طرزِ زندگی سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں، جنہیں خاص طور پر کینسر، پارکنسن اور ڈیمنشیا جیسے امراض کی تحقیق میں استعمال کیا جاتا ہے۔
برطانیہ کے وزیر برائے ٹیکنالوجی ایان مرے نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا کہ حکومت کو اس ڈیٹا کے لیک ہونے کی باضابطہ اطلاع موصول ہوئی ہے، جس کے بعد فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ڈیٹا اصل میں تین تعلیمی اداروں کو تحقیقی مقاصد کے لیے فراہم کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے غیر مجاز طریقے سے دوبارہ استعمال کرتے ہوئے آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔ سر روری کولنز کے مطابق یہ اقدام معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کے بعد متعلقہ افراد اور اداروں کی رسائی معطل کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ ڈیٹا “ڈی آئیڈینٹیفائیڈ” نوعیت کا تھا، یعنی اس میں نام، پتے یا براہِ راست شناخت ظاہر کرنے والی معلومات شامل نہیں تھیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس کے باوجود یہ صورتحال سائبر جرائم کے تناظر میں ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہے۔
برطانیہ اور چین کے متعلقہ اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے علی بابا پلیٹ فارم سے یہ اشتہارات ہٹوا دیے اور ڈیٹا کی کسی بھی ممکنہ فروخت کو روک دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد یو کے بایو بینک نے اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے ڈیٹا تک رسائی کو عارضی طور پر محدود کر دیا ہے، جبکہ ڈیٹا ایکسپورٹ پر سخت نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ادارے نے 2026 کے آخر تک ایک خودکار حفاظتی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








