گلوکارہ میشا شفیع نے ہتک عزت کیس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران گلوکار علی ظفر کے خلاف جھوٹا بیان دینے کا اعتراف کرلیا۔
ایڈیشنل سیشن جج خان محمود نے ہتک عزت کیس کی سماعت کی، اداکار و گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے والی میشا شفیع سے ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کی گئی۔
دوران سماعت علی ظفر کے وکیل طارق گل نے میشا شفیع سے سوال کیا کہ کہ آپ نے ایک تصویر عدالت میں پیش کی، اسی بنیاد پرآپ نے علی ظفر پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا، یہ تصویر آپ نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر خود اپ لوڈ کی، آپ نے اس کا کیپشن لکھا کہ آج رات پارٹی ہوگی، اور علی ظفر کی اہلیہ کو سالگرہ کی مبارک باد دی، اسے کیسے جنسی ہراسگی کہہ سکتی ہیں؟
اس کے جواب میں خاتون گلوکارہ نے کہا کہ انہیں تصویر یاد نہیں اور مزید تبصرہ کرنے کے لیے اسے دیکھنا پڑے گا، اور پھر، انہیں تصویر دکھائی گئی۔
سماعت کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ میشا شفیع سے جرح یکم مارچ تک جاری رہے گی۔ ٹوئٹر پر علی ظفر نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح انہوں نے ایک تصویر کے ذریعے جھوٹا دعویٰ کیا جو انہیں بمشکل یاد ہے۔
2018 میں منظر عام پر آنے کے بعد سے، اس کیس کو بڑے پیمانے پر پاکستان میں #MeToo موومنٹ کے آغاز کے طور پر بیان کیا گیا۔
مزید پڑھیں:’پاکستان کیخلاف بیان کو برداشت نہیں کرسکتا‘، جاوید اختر کے متنازع بیان پر علی ظفر ناراض
میشا شفیع نے علی ظفر پر الزامات عائد کئے تھے کہ علی ظفر نے انہیں متعدد مواقع پر جنسی طور پر ہراساں کیا، پاکستان بھر میں بہت سی خواتین ان کی حمایت کے لئے آگے آئیں، کئی نے علی ظفر کے ساتھ اسی طرح کے تجربات شیئر کیے اور الزام لگایا کہ انہوں نے ان کے ساتھ بھی نامناسب سلوک کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








