کراچی کے علاقے منوڑہ کو ساحلی مقام ہونے کی حیثیت سے عوام کی بڑی تعداد بے حد پسند کرتی ہے۔ تفریحی مقام پر سمندر میں بے شمار افراد کے موبائل فونز، پرس اور قیمتی اشیاء گر جاتی ہیں۔
منوڑہ کے رہائشی رحیم خان کا کہنا ہے کہ منوڑہ میں جو بھی لوگ گھومنے آتے ہیں، ان میں سے اگر کسی کی کوئی چیز مثلاً موبائل یا گھڑی وغیرہ سمندر میں گر جاتی ہے تو مجھے ٹائم کیپر فون کرکے بتا دیتے ہیں اور میں اپنے مشن پر نکل پڑتا ہوں۔
پاکستانی نوجوان کے ہمراہ سڑک کے ذریعے ورلڈ ٹور پر جائیں
گہرے سمندر میں غوطہ خوری کرنے والے رحیم خان نے کہا کہ میں پانی میں اترتا ہوں اور اللہ کی مدد سے لوگوں کی کھوئی ہوئی چیزیں نکال کر دیتا ہوں۔ ہم اپنے بچپن کے دور میں سمندر سے پیسے نکالتے تھے۔
غوطہ خور رحیم خان نے کہا کہ میں نے بچپن کے پیسے نکالنے کے شوق میں سمندر میں تیراکی سیکھ لی۔ لوگ لانچوں میں بھر بھر کر آیا کرتے تھے اور ہم انہیں چار آنے یا آٹھ آنے پھینکنے کو کہا کرتے تھے۔
آج کل چار آنے (25 پیسے) اور آٹھ آنے (50 پیسے) کا دور ختم ہوگیا ہے۔ ایک روپے اور دو روپے کے نوٹوں کی جگہ بھی سکوں نے لے لی۔رحیم خان کا کہنا ہے کہ ہم 40 سے 45 فٹ تک پانی کی گہرائی میں آکسیجن کے بغیر جاسکتے ہیں۔
رحیم خان نے کہا کہ منوڑہ میں سمندر کی 30 سے 35 فٹ تک گہرائی ہے۔مجھے نیچے کی طرف بڑی تیزی سے جانا پڑتا ہے۔ جتنا کام ہوتا ہے، اتنی آکسیجن دستیاب نہیں ہوتی، پھر بھی ہم مطلوبہ چیز ڈھونڈ کر آجاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








