امریکہ میں نماز ادا کرتے مسلم طلبہ کو ہراساں کرنیوالے 3 افراد کیخلاف مقدمہ درج

تازہ ترین

تازہ ترین

Men charged with hate-crime for harassing Muslim students during prayer at USF
ONLINE

امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں نماز ادا کرتے مسلم طلبہ کو ہراساں کرنے والے تین افراد پر نفرت پر مبنی جرم کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گروہ فجر کی نماز کے دوران طلبہ کے قریب آ کر شور شرابا کرتا ہے، گالیاں دیتا ہے اور ان کے سامنے سؤر کا گوشت لہرا کر اشتعال انگیزی کرتا ہے۔

ویڈیوز میں یہ بھی واضح ہے کہ مذہبی انتہاپسند خیالات رکھنے والا یہ گروہ عبادت میں مصروف طلبہ کے بالکل چند انچ کے فاصلے تک آ گیا تھا، شور مچاتا رہا اور بار بار توہین آمیز جملے کہتا رہا۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے تین افراد کے خلاف نفرت پر مبنی جرم کی دفعات کے ساتھ ساتھ تعلیمی و مذہبی اجتماع میں دخل اندازی اور بد نظمی کے الزامات بھی عائد کیے۔

پولیس کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت ٹیکساس کے کرسٹوفر سوچک، اوکلاہوما کے رچرڈ پینسکوسکی، اور ٹمپا کے رہائشی ریکارڈو یپیز کے طور پر ہوئی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب یونیورسٹی کی پارکنگ کے بالائی حصے میں فجر کی نماز کے دوران یہ افراد طلبہ کے قریب آ کر مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔

 

طلبہ کے بیانات کے مطابق ملزمان نے نہ صرف انتہائی اشتعال انگیز جملے کہے بلکہ ایسے نعرے بھی لگائے جن سے ان کی عبادت میں خلل پڑا۔

ایک شخص نے ہاتھ میں ایک کارڈ بورڈ اٹھا رکھا تھا جس پر مذہبی اشتعال انگیزی پر مبنی جملہ درج تھا جبکہ دوسرا شخص عربی لباس پہن کر اس پر توہین آمیز الفاظ پرنٹ کیے ہوئے تھا۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان میں سے ایک شخص سؤر کا گوشت لہراتے ہوئے مسلم طلبہ کو طعنے دے رہا ہے۔

ایک طالب علم ابو طاہر نے بتایا کہ یہ لوگ ہمارے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ہمیں خوف تھا کہیں یہ سجدے کی حالت میں ہمارے سروں پر قدم نہ رکھ دیں۔

مقامی رہنماؤں نے اسلامی سوسائٹی آف ٹمپا بے ایریا میں پریس کانفرنس کر کے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کسی شہری کو اپنے مذہبی حق کی ادائیگی کے دوران خوف اور حملے کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

ہلزبرو کاؤنٹی کے کمشنر ہیری کوہن نے اسے شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا رویہ کسی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

کمشنر گون مائرز نے کہا کہ مسلم کمیونٹی اس کاؤنٹی کا لازمی حصہ ہے اور اسے خوفزدہ کرنے کی ہر کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مسلم اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق واقعے کے وقت یونیورسٹی کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا۔ ایسوسی ایشن کے صدرملاک البستامی نے انتظامیہ سے مزید مضبوط اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات روکے جا سکیں۔

Related Posts