کمشنر کراچی نے دودھ کی خوردہ قیمت کو 220 روپے فی لیٹر برقرار رکھنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کا مقصد شہریوں کے لیے خریداری کو سہل بنانا اور دوسری جانب دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔
اس تازہ حکم نامے کے تحت دودھ کے پیداواری اور تھوک سطح کے نرخوں میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیری فارمرز کے لیے قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کا نیا نرخ 200 روپے فی لیٹر مقرر ہوا ہے جبکہ تھوک فروشوں کے لیے 3 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ ان کی قیمت 208 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
کمشنر آفس کے مطابق کراچی میں دودھ کی قیمت کا آخری باضابطہ تعین 13 جون 2024 کو کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سندھ حکومت اور ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے درمیان قیمتوں کے تعین کے حوالے سے کشیدگی گزشتہ کئی ماہ سے برقرار تھی۔
اکتوبر 2025 میں سندھ حکومت نے ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دودھ کی قیمت کو 300 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کسی بھی یکطرفہ اضافے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر سعدیہ جاوید نے پہلے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ اگرچہ ملک کے کئی حصوں میں دودھ کی قیمت 200 روپے سے تجاوز کر چکی ہے لیکن کراچی میں انتظامیہ موجودہ نرخ کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دودھ کی حتمی قیمت کا فیصلہ معیار کی جانچ پڑتال کے بعد ہی کیا جائے گا تاکہ صارفین کو معیاری دودھ مناسب قیمت پر فراہم کیا جا سکے۔
کمشنر کراچی کے تازہ ترین حکم نامے نے قیمتوں کے حوالے سے واضح پالیسی فراہم کر دی ہے جس سے نہ صرف صارفین کو استحکام ملے گا بلکہ ڈیری فارمرز کو بھی غیر مجاز طور پر قیمت بڑھانے سے روکا جا سکے گا۔
اس اقدام سے شہر میں دودھ کی دستیابی، قیمت اور معیار کے حوالے سے ایک منظم اور قابلِ پیشگوئی ماحول پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








