مینار پاکستان لاہور میں ختم نبوت گولڈن جوبلی کانفرنس میں ملک کے کونے کونے سے لاکھوں عاشقان مصطفی کا سمندر امڈ آیا۔
سات ستمبر 1974 کو قومی اسمبلی سے قرار داد اقلیت کی منظوری اور ختم نبوت کے مسئلے کے حل کے پچاس سال پورے ہونے پر تمام دینی جماعتوں کے اشتراک سے ختم نبوت گولڈن جوبلی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔
کانفرنس کی میزبانی جمعیت علمائے اسلام اور ختم نبوت محاذ کے معروف فورم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مشترکہ طور پر کی۔
کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن، وفاق المدارس العربیہ کے اکابرین، مدارس کے نمائندگان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس کے رہنما قاضی احسان احمد نے کہا کہ لاکھوں افراد کے اجتماع نے یہ ثابت کردیا کہ عشقان رسول کو کوئی بھی طاقت میلی آنکھ سے نہی دیکھ سکتی۔
آج پچاس سال میرے اور آپ کے بزرگوں کی محنتوں اور کوششوں کے پورے ہوگئے، قا دیانیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم قرار دلوانے میں ہمارے اکابر کے دن رات کی محنت اور اور جدوجہد شامل ہے اور آج اس تحریک کے پچاس سال مکمل ہوگئے۔
ختم نبوت کے جس تحریک کو حضرت مولانا مفتی محمود رح نے پارلیمان میں شروع کی اس تحریک ختم نبوت کو ہر فورم پر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں لیکر چلیں گے۔
کانفرنس سے عشا تک جماعت اسلامی کے سینئر رہنما بزرگ سیاستدان لیاقت بلوچ، اہلحدیث رہنما علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، جامعہ اشرفیہ کے مولانا فضل الرحیم اشرفی، ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبد الخبیر آزاد، مولانا اللہ وسایا، علامہ راشد سومرو، ڈاکٹر نصیر الدین سواتی سمیت ملک بھر سے آئے اکابر علماء نے خطاب کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








