سندھ کے شہر بھولاری میں محکمہ خوراک سندھ کے گودام سے کروڑوں کی گندم غائب ہوگئی۔ محکمے نے کیس کی تفتیش کیلئے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو سفارش کردی۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ خوراک نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو باضابطہ طور پر سفارش کی۔ ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ گندم کی خردبرد کا انکشاف سیکریٹری محکمہ خوراک کی زیر صدارت اجلاس کے دوران ہوا۔
رپورٹ کے مطابق سیکریٹری محکمہ خوراک کی زیر صدارت اجلاس کے دوران پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نو جنوری کو 64 ہزار 483 گندم کے تھیلوں کی خردبرد کی نشاندہی کی گئی، جبکہ غائب کی گئی گندم کی مالیت کا تخمینہ 64کروڑ 48لاکھ 35ہزار روپے لگایا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق 18 جنوری کو سندھ بھر کے 66گوداموں میں سے 52گوداموں کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران بھولاری گودام سے گندم غائب ہونے کا انکشاف ہوا۔ حکام نے گندم کی ہیر پھیر میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے رپورٹ سامنے آنے کے بعد رات گئے کارروائی کرتے ہوئے فوڈ انسپکٹر اللہ ڈنو کو گرفتار کرلیا۔ حکام کا ماننا ہے کہ کروڑوں روپے مالیت کی گندم چوری کے متعلق تفتیش جاری ہے جس کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








