سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہے جن کا انتقال 2دسمبر 2020 کو ہوئی اور وہ 76سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
تفصیلات کے مطابق میر ظفر اللہ خان جمالی کی بطور وزیراعظم تعیناتی ہی ملک کی تاریخ بدل دینے کیلئے کافی ثابت ہوئی کیونکہ وہ ملک کے واحد وزیراعظم تھے جن کا بلوچستان سے تقرر عمل میں لایا گیا جبکہ اس سے قبل سب سے زیادہ وزرائے اعظم کا تعلق پنجاب اور پھر سندھ سے رہا ہے۔
میر ظفر اللہ خان جمالی کے اچانک انتقال سے سیاسی حلقوں میں بے چینی اور گہرے صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی، جو یکم جنوری 1944 کو بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے دیہات روجھان جمالی میں بااثر سیاسی زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر شاہنواز خان جمالی زمینداری کے پیشے سے وابستہ تھے۔
بطور وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کا شمار ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ وزرائے اعظم میں کیا جاتا ہے جنہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی اور پھر او لیول اور اے لیول کے بعد پہلے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی۔
آگے چل کر 1960 کی دہائی میں ساسی کیرئیر کا آغاز ہوا اور 1970 کے عام انتخابات میں حصہ لینے پر کامیابی نہ مل سکی، تاہم 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے اور محمد خان باروزئی کی صوبائی کابینہ میں صوبائی وزیر بن گئے۔
مختلف مواقع پر مختلف وزارتیں سنبھالنے والے میر ظفر اللہ خان جمالی 2 بار بلوچستان کے وزیر اعلیٰ بھی بنے اور پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما بھی رہے۔ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے اور 2002میں پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔
اپنے 20 ماہ کے دورِ حکومت میں میر ظفر اللہ خان جمالی نے پرویز مشرف کی عسکری قیادت کے زیر اثر ملک کو معاشی استحکام کی ڈگر پر ڈالنے کی کوشش کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ ڈالا۔ جون 2004 میں صدر پرویز مشرف کے ساتھ پالسیی اختلافات کی بنیاد پر مستعفی ہوگئے۔ ان 2دسمبر2020 کو وفات کے موقعے پر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








