سمندر میں غرقاب بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کا نظارہ کرنے کیلئے جانے والی آبدوز ٹائٹن اتوار کے روز جنوب مشرقی کینیڈا کی سرحد پر لاپتہ ہوگئی ہے۔ سیاحتی آبدوز کی تلاش تیسرے روز بھی جاری ہے۔
حال ہی میں امریکی میڈیا کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ لاپتہ سیاحتی آبدوز ٹائٹن کی آوازیں سنی گئی ہیں اور کچھ سگنلز بھی موصول ہورہے ہیں۔
زیر آب ٹائٹن کی تلاش کو جانے والے سونار کو سگنلز موصول ہوئے ہیں۔ ٹائٹن آبدوزمیں صرف تیس گھنٹے کی آکسیجن باقی رہ گئی ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ تقریباً بیس ہزارمربع کلومیٹر کے رقبے پر تلاش کررہے ہیں۔ تلاش میں کینیڈا کی بحریہ، فضائیہ اور کوسٹ گارڈ اور ریسکیو ٹیمیں بھی مدد کررہی ہیں۔ ایک فرانسیسی تحقیقی جہاز بھی تلاش میں شامل ہوگیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق سبمرسیبل بھیجنے والی کمپنی کو تباہ کن مسائل کے امکان سے آگاہ کیا گیا تھا۔
سیاحوں کو ٹائی ٹینک کا ملبہ دکھانے کیلئے جانیوالی آبدوز کیسے لاپتہ ہوئی؟
بحیرہ اوقیانوس میں 3 ہزار 800 میٹر گہرائی مین ٹائی ٹینک کی باقیات دیکھنے کی خواہش میں دوپاکستانیوں سمیت 5 افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ سبمرسیبل ٹائٹن میں کپتان ایک ارب پتی برطانوی تاجر، ماہر غوطہ خور سوار ہیں۔
سبمرسیبل میں آٹھ دن کے سیاحتی دورے پر جانے کا ٹکٹ ڈھائی لاکھ ڈالر ہے۔ سبمرسیبل آبدوز سے چھوٹی ہوتی ہے، جسے لانچ کرنے کیلئے بحری جہاز درکار ہوتا ہے۔ ٹائٹن کا معاون جہاز پولر پرنس تھا۔
معلوم رہے کہ 111 سال قبل دنیا کی بحری جہازوں کی تاریخ کا ایک مشہور ترین اور بڑا حادثہ اس وقت پیش آیا جب 15 اپریل 1912 کو رات کے 2 بج کر 20 منٹ پر ’ٹائٹینک‘ نامی جہاز ایک برفانی تودے یا آئس برگ سے ٹکرا کر نیو فاؤنڈ لینڈ کے ساحل کے قریب ڈوب گیا تھا۔
اس بحری جہاز کو اس وقت کا پرتعیش ترین اور محفوظ ترین جہاز بلکہ کبھی نہ ڈوبنے والا جہاز قرار دیا گیا تھا مگر اس کے ڈوبنے سے ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اب یہ جہاز 111 سال سے شمالی بحر اوقیانوس میں 2.4 میل گہرائی میں پڑا ہوا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








