برطانیہ نے پاکستان کیلئے تجارتی اسکیم بحال کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: معاشی بحرانی صورتحال میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے خوشخبری آگئی، برطانیہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے تجارتی اسکیم بحال کردی۔

تجارتی اسکیم کے تحت متعلقہ ممالک کو ٹیرف میں کمی اور آسان تجارتی سہولیات ملیں گی، نئی اسکیم جنرلائزڈ سکیم پریفرینس کی جگہ نافذ العمل ہوگی، سکیم سے تجارت کو فروغ اور امداد کی ضرورت میں کمی آئے گی۔

پاکستان سے برطانیہ کو 94 فیصد اشیاء پر ڈیوٹی فری برآمدات کے فوائد جاری رہیں گے، اسکیم کے تحت پاکستان سے 156 سے زائد اضافی مصنوعات پر ٹیرف ہٹادیا جائے گا، اسکیم کے تحت کچھ عارضی ٹیرف کو آسان بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

آئی ایم ایف رواں ماہ پاکستان کی مدد نہیں کرتا تو شدید نقصان ہوگا، بلومبرگ

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مصنوعات اور خدمات کی تجارت کا موجودہ مجموعی سالانہ حجم 4 ارب 40 کروڑ پاؤنڈ ہے، نئی اسکیم کے ذریعے برطانوی برآمدی ٹیرف کی مد میں 120 ملین پاؤنڈ کی بچت متوقع ہے۔

پاکستان کے لیے برطانوی ٹریڈ ڈائریکٹر اور برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سارہ مونے نے کہا کہ برطانوی ٹریڈ سینٹر آف ایکسی لینس کے ذریعے پاکستان کو انٹرنیشنل ٹریڈنگ سسٹم میں حصہ لینے کے لیے تعاون فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیشرفت ہے، اسکیم دونوں عظیم ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔

پاکستان برطانیہ کوسالانہ اوسطاً 25 کروڑ پاؤنڈ کی بیڈ لینن برآمد کرتا ہے، پاکستان سالانہ اوسطاً 10 کروڑ پاؤنڈ کی جینز برآمد کرتا ہے، نئی اسکیم کے تحت دونوں اشیا کو درآمدی ڈیوٹی میں 12 فیصد رعایت ملے گی۔

Related Posts