دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سمیت دیگر جدید سائنسی ایجادات حیرت انگیز تبدیلیاں لا رہی ہے، دنیا کے مختلف ممالک کا عدالتی نظام بھی اس سے مستفید ہورہا ہے۔ چشم کشا رپورٹ سامنے آگئی۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کا عدالتی نظام جدید سائنسی ایجادات کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکا اور جنوبی کوریا کے علاوہ جاپان میں بھی حیرت انگیز ٹیکنالوجی نے عدالتی نظام کے ذریعے انصاف کا حصول آسان کرلیا۔ امریکا میں وی آر کورٹ روم ری کنسٹرکشن کی مدد سے ججز ورچؤل رئیلٹی میں موقعہ واردات کو دیکھ سکتے ہیں جس سے فیصلے میں آسانی ہوتی ہے۔
اسی طرح برطانیہ میں ڈیجیٹل ٹوئن کورٹ رومز موجود ہوتے ہیں اور وکلاء کو مقدمے کے آغاز سے بھی پہلے ٹوئن کورٹ روم کی مدد سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ وہ اپنے دلائل کی خود آزمائش کرکے یہ جان سکیں کہ وہ اپنے مؤکل کے حق میں کتنا بہتر مقدمہ تیار کرسکتے ہیں۔ چین میں بھی اے آئی ججز اور فیشل ریکوگنیشن کا استعمال کیاجاتا ہے جس سے روٹین کیسز کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں عدالت میں ذاتی طور پر حاضری کی بجائے ہالوگرام حاضری کا سہارا لیا جاسکتا ہے جس کے ذریعے ایک شخص مکمل طور پر حاضر دکھائی تو دیتا ہے، لیکن دراصل کہیں اور موجود رہتے ہوئے عدالتی کارروائی کو دیکھ سکتا ہے۔ اس کی مدد سے طویل سفر سے بچا جاسکتا ہے اور سرحدی حدود سے بالاتر ہو کر بیرون ملک سے بھی کسی شخص کو عدالت میں حاضر کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔
ایسٹونیا میں ججز کی جگہ روبوٹ بٹھا دئیے گئے ہیں جو کیسز کا ملکی فوجداری قوانین کی روشنی میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس سے چھوٹے موٹے کیسز کا انسانی مدد کے بغیر آسانی سے فیصلہ ممکن ہوجاتا ہے جبکہ جاپان میں تھری ڈی کرائم سین ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے ججز یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی موقعہ واردات پر جو کچھ ہوا، وہ وکلاء کے دلائل اور تفتیشی افسران کی وضاحت سے کتنی مطابقت رکھتا ہے۔
جنوبی کوریا میں عدالتی فیصلوں کیلئے اے آئی سسٹم کا استعمال کیا جاتا ہے اور مصنوعی ذہانت ماضی کا طویل ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے کیسز کا فیصلہ کرتی ہے تاکہ مقدمات کے دوران انسانی جانبداری کے عنصر سے بچتے ہوئے درست فیصلے کیے جاسکیں جبکہ سنگاپور میں آواز کی جانچ پڑتال کی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے جس کی مدد سے گواہوں کے بیانات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق ہوسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








