آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) یا مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی زندگی کے مختلف شعبوں میں استعمال کی جارہی ہے اور اب اس کو دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹبال کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
فیفا کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس کے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے کیمرے فٹبال ورلڈ کپ 2022 کے دوران ریفریز کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کریں گے کہ کوئی کھلاڑی آف سائیڈ ہے یا نہیں۔
یہ سیمی آٹو میٹڈ سسٹم گیند میں نصب ایک سنسر پر مشتمل ہوگا جو ہر سیکنڈ 500 بار فیلڈ پوزیشن سے آگاہ کرے گا۔
اسی طرح 12 ٹریکنگ کیمرے اسٹیڈیم کی چھت کے نیچے لگے ہوئے ہوں گے جو کھلاڑی کے جسموں کے 29 مقامات کو مشین لرننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریک کریں گے۔
اس ڈیٹا کو ایک سافٹ وئیر اکٹھا کرکے کھلاڑی کے آف سائیڈ ہونے پر الرٹس جاری کرے گا۔
یہ الرٹس کنٹرول روم کے قریب حکام کو بھیجے جائیں گے جن کی جانب سے فیلڈ پر موجود ریفری کو بتایا جائے گا کہ انہیں کیا فیصلہ کرنا ہے۔
فیفا کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا عمل چند سیکنڈ میں مکمل ہوجائے گا، یعنی آف سائیڈ کا فیصلہ برق رفتاری سے درست کیا جاسکے گا۔
اس سے قبل فیفا کی جانب سے 2018 کے ورلڈ کپ کے لیے ویڈیو اسٹنٹ ریفریز کو استعمال کیا گیا تھا۔
فیفا ریفریز کمیٹی کے چیئرمین ہائرلوگی کولینیا نے ایک بیان میں کہا کہ اس نئے سسٹم سے حکام کے لیے زیادہ درست فیصلے جلد کرنا ممکن ہوگا مگر روبوٹس کی بجائے اب بھی انسان ہی کھیل کو سنبھالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کچھ افراد اسے روبوٹ آف سائیڈ قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہ خیال درست نہیں، ریفریز اور اسسٹنٹ ریفریز ہی فیلڈ پلے میں کیے جانے والے فیصلوں کے ذمہ دار ہوں گے۔
خیال رہے کہ 2022 کا فٹبال ورلڈ کپ قطر میں ہوگا اور یہ پہلا موقع ہے جب ایک ورلڈ کپ کی میزبانی ایک عرب ملک کررہا ہے۔
قطر کے موسم کی وجہ سے فٹبال ورلڈ کپ کا انعقاد موسم گرما کی بجائے نومبر اور دسمبر میں ہوگا۔