فاشسٹ مودی سرکار نے گستاخی کا معاملہ سامنے لانے والا مسلم صحافی گرفتار کر لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی پولیس نے گستاخانہ بیان کو منظرعام پر لانے والے صحافی محمد زبیر کو توہین مذہب اور اشتعال انگیزی کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

محمد زبیر بھارت کے معروف صحافی ہیں اور فیک نیوز چیک کرنے اور عوام کے درمیان اس بارے میں بیداری پھیلانے کے لیے مشہور ہے۔

محمد زبیر گذشتہ دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق ترجمان نوپور شرما کی جانب سے ایک ٹی وی پروگرام میں گستاخانہ بیانات کو منظر عام پر لانے اور ٹوئٹر کے ذریعے اس خبر کو عام کرنے کے بعد خبروں میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں:

امریکا میں قادیانی مبلغ کوبچوں کی فحش فلمیں بنانے کے 10الزمات میں سزا کے امکانات بڑھ گئے

ان بیانات کو منظر عام پر لانے کے بعد انتہاپسند ہندوں کی جانب سے یہ مطالبات سامنے آئے تھے کہ محمد زبیر کو گرفتار کرکے اُن پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کےمطابق محمد زبیر کی گرفتاری کی خبر کے بعد آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے ایک بیان میں لکھا ہے کہ محمد زبیر کو آج دہلی اسپیشل سیل میں تفتیش کی غرض سے بلایا گیا تھا۔

پرتیک سنہا کا کہنا تھا کہ یہ کیس 2020 کا تھا اور اس میں زبیر نے ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری لے رکھی تھی تاہم آج شام کو ہمیں آگاہ کیا گیا کہ انھیں کسی اور کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ انھیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا جو قانون کی رو سے دینا ضروری ہے اور بارہا درخواستوں کے باوجود انھیں اس ایف آئی آر کی کاپی بھی فراہم نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر محمد زبیر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب دلی پولیس کے ڈی سی پی کے پی ایس ملہوتارا کے مطابق محمد زبیر کے خلاف معقول ثبوت ہونے کی وجہ سے انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ محمد زبیر پر مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام ہے۔

Related Posts