پاکستانی نژاد امریکی خاتون کے قتل کیس میں مقتولہ کی بہن کا بیان ریکارڈ

تازہ ترین

تازہ ترین

راولپنڈی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے پاکستانی نژاد امریکی خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں برطانیہ میں مقیم مقتولہ کی ہمشیرہ اور بھانجے کا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان قلمبند کرکے دونوں گواہوں پر جرح کے لئے سماعت ملتوی کر دی جبکہ برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کی قونصلر افیئرزرابعہ قصوری نے مقتولہ کی ہمشیرہ اور بھانجے کے بیانا ت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کے بیان کسی قسم کی مداخلت اور دباؤ کے بغیر ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

مقتولہ کی ہمشیرہ 52سالہ فائزہ فاروق سواتی نے عدالت کے روبرو بیان میں بتایا کہ اس کی ہمشیرہ وجیہہ سواتی گزشتہ سال12اگست کو اپنے 2بچوں حاشر اور اشعر کے ہمراہ اس کے پاس برطانیہ آئی اور وہ اپنی جائیداد سے متعلق رضوان حبیب سے بعض معاملات میں انتہائی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔

فائزہ سواتی نے بتایا کہ وجیہہ نے رضوان حبیب کا نمبر بلاک کر رکھا تھا اور وہ اس سے رابطے میں نہیں تھی۔ وجیہہ نے بتایا کہ اس نے ڈی ایچ اے میں ایک گھر خریدا ہے لیکن رضوان حبیب نے فائلر اور نان فائلر کی بنیاد پر وہ گھر اپنے نام کرا لیا ہے جس کے لئے رضوان کا موقف تھا کہ وہ یہ گھر اس کے نام منتقل کر دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

لیڈی کانسٹیبل اقراء قتل کیس،ایس پی عارف شاہ و دیگر کی عبوری ضمانت میں توسیع مسترد

فائزہ سواتی نے اپنے بیان میں بتایا کہ جب وجیہہ نے 2020میں گھر اپنے نام منتقل کرانے کا کہا تو رضوان حبیب نے انکار کر دیا اور وہ گھر اپنی والدہ کے نام منتقل کر دیا۔ اس طرح جھگڑا شروع ہونے پر وجیہہ نومبر2020میں ایبٹ آباد گئی۔ کووڈ19کی لہر کے دوران وجیہہ پاکستان میں تھی اورگزشتہ سال جولائی میں وہ پہلے امریکہ گئی اور پھراگست میں اس کے پاس برطانیہ آئی اور میرے شوہر مقصود کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد رضوان نے مقصود سے وعدہ کیا کہ وہ یہ گھر وجیہہ کے نام منتقل کر دے گا اور رضوان نے گفٹ ڈیڈ سمیت کچھ دستاویزات وجیہہ کو بھجوائیں اور کہا کہ گھر کی منتقلی کے لئے وجیہہ کی موجودگی ضروری ہے لہٰذا وہ پاکستان آئے۔ جس پر وجیہہ نے پاکستان آنے کا پروگرام بنایا۔

رضوان نے وجیہہ سے کہا کہ وہ ایک ہفتے میں پاکستان آئے کیونکہ پھر اسے بدین میں اپنی شوگر مل لگانے جانا ہے جس پر وجیہہ نے 2دن کے اندر پاکستان جانے کا پروگرام فائنل کیا اور اپنے بچوں کو میرے پاس چھوڑ کر میرے بیٹے ایان کو ساتھ لے گئی۔ رضوان نے بتایا کہ گھر منتقلی کے عمل میں 3دن لگیں گے۔ فائزہ نے بتایا کہ اس طرح وجیہہ 16اکتوبر کو برطانیہ سے پاکستان کے لئے روانہ ہوئی۔ 

مقتولہ کے بھانجے نے اپنے بیان میں بتایا کہ جب وہ ایئر پورٹ پہنچے تورضوان حبیب باہر موجود تھا اور وہ ہمیں اپنی سفید کار میں ڈی ایچ اے لے آیا۔ گھر پہنچنے پر رضوان حبیب نے اپنے ملازمین زاہدہ اور یوسف سے کہا کہ گھر کے کیمرے آف کر دو، جب ہم کمرے میں پہنچے تو زاہدہ نے ہمیں جوس لا کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد میں اور خالہ سو گئے، جب میری آنکھ کھلی تو میں صوفہ پر تھا جبکہ خالہ اپنے کمرے میں تھی، جب میں باہر گیا تو رضوان نے یوسف سے کہا کہ اسے پالتو جانور دکھاؤ۔

ایان نے بتایا کہ تھوڑی دیر بعد جب میں واپس آیا تو خالہ رضوان حبیب کے کمرے میں تھیں، پھر میں نے وائی فائی کا پاس ورڈ معلوم کیا اور کمرے میں دھواں ہونے کے باعث میں خالہ کے کمرے میں واپس آگیا، جس کے بعد خالہ بھی کمرے میں آگئی اور اس نے کسی کو فون اور میسج کیا۔

اس دوران رضوان بھی کمرے میں آگیا اور خالہ سے کہا کہ فون چھوڑ دو اور تھوڑا وقت اس کے ساتھ گزارو۔ اس طرح وہ دونوں باہر نکلے اور رضوان انہیں اپنے کمرے میں لے گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب میں ان کے کمرے میں گیا اور دروازے پر دستک دی تو ملازمہ زاہدہ باہر سے دوڑتی ہوئی آئی اور کہا کہ میڈم سو رہی ہیں، جس پر میں دوبارہ خالہ کے کمرے میں چلا گیا، جس پر زاہدہ میرے پیچھے آگئی اور کہا کہ اپنا سامان اٹھاؤ۔ اس طرح زاہدہ اور یوسف مجھے حاشر اور اشعر کے کمرے میں لے آئے۔

میں نے ان سے پوچھا کہ وہ مجھے یہاں کیوں لائے تو انہوں نے کہا کہ اس کمرے کی صفائی کرنی ہے اور پھر انہوں نے وہ کمرہ لاک کر دیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد حبیب میرے پاس آیا اور اور اس نے زبردستی مجھے کچھ چاکلیٹ کھانے کو دیں۔ اس دوران اس نے سلور ٹائپ کی کوئی چیز اپنے کوٹ میں لگائی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔

چند گھنٹوں بعد جب میں خالہ کو دیکھنے باہر گیا تو زاہدہ اور یوسف حبیب کے کمرے میں تھے، میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن مجھے خالہ کا سامان کہیں نظر نہ آیا۔ جب میں نے زاہدہ اور یوسف سے ان دونوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ چکن لینے گئے ہیں، جس کے بعد میں کمرے میں آگیا۔

تھوڑی دیر بعد میں نے زوردار آوازیں سنیں اور خوفزدہ ہو کر اپنی والدہ کو کال کی کہ عامرہ خالہ سے کہیں کہ وہ مجھے یہاں سے لے جائیں۔ جب میں عامرہ خالہ کے ساتھ جانے لگا تو زاہدہ نے مجھے دوبارہ چاکلیٹ کا ڈبہ دیا اور یوسف نے بلیک کلر کاجوس دیا۔ اس طرح میں خالہ کے ساتھ وہاں سے آگیا۔

دونوں گواہوں کے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت نے سماعت 5جولائی تک ملتوی کر دی۔ آئندہ تاریخ پر ملزمان کے وکیل گواہوں پر جرح کریں گے۔

یاد رہے کہ تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں رواں سال 2نومبرکومغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات365 کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا، جس میں الزام تھا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ 16اکتوبر کو فلائیٹ نمبر BA-0261کے ذریعے برطانیہ سے پاکستان آئی جبکہ انہوں نے 22اکتوبر کو فلائیٹ نمبرBA-0260سے واپس جانا تھا۔

ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اور ان کے2مزید بچے سب امریکی شہریت کے حامل ہیں اور والد کی وفات کے بعد سے امریکہ میں ہی مقیم ہیں جبکہ اس کی والدہ اپنے سابقہ شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کے لئے پاکستان آئی تھیں لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیدا دکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھا۔ اس مقدمہ میں 5 ملزمان قیداور1 ملزم ضمانت پر ہے۔

Related Posts