بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے واضح فیصلے کے باوجود مودی حکومت نے اپنے ہی ملک کے عوام کیلئے نیا سوال کھڑا کردیا کہ وہ انڈین کہلانا چاہتے ہیں یا بھارتی؟ جس پر تنازعات جنم لے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے عہدیدار جے رام رمیش نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے جی 20 سربراہی اجلاس کے عشائیے کے دعوت ناموں میں پریزیڈنٹ آف انڈیا کی جگہ پریزیڈنٹ آف بھارت لکھوا دیا ہے جبکہ دعوت نامے راشٹرپتی بھون (ایوانِ صدر) سے آئے۔
سائفر معاملے کا مستقل جائزہ لے رہے ہیں۔امریکا
بھارتی ایوانِ صدر نے 9ستمبر کو جی 20 عشائیے کیلئے معمول سے ہٹ کر پریزیڈنٹ آف بھارت لکھ کر دعوت نامہ بھیجا ہے۔ کانگریس رہنما کا کہنا ہے کہ بھارتی آئین پر نظر ڈالیں تو انڈیا ریاستوں کا مرکز ہوگا، لیکن ریاستوں کے مرکز پر بھی بی جے پی حملوں کی زد پر ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی چاہیں تو یہ تقسیم جاری رکھیں۔
کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ مودی جی بھارت کی تقسیم کا یہ سلسلہ بے شک جاری رکھیں لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔ کانگریس کے علاوہ سماج وادی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھی مودی حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مودی کو انڈیا سے خوفزدہ وزیراعظم قرار دیا۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ مودی کو انڈیا سے اتنا ڈر لگتا ہے کہ وہ اس کی جگہ بھارت لکھ رہے ہیں۔ ملک کی 28 اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے اپنا مشترکہ نام انڈیا رکھا لیکن اس کے معنی الگ ہیں۔ ملک کا نام انڈیا الگ حیثیت کا حامل ہے جس سے مودی حکومت اتنی خوفزدہ ہوجائے گی کہ ملک کا نام ہی بدل ڈالے، یہ سوچا نہیں تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








