مودی سرکار نے ایک اور تاریخی مسجد کو متنازع بنانے کا عمل تیز کر دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

 انڈیا کی نسل پرست انتہا پسند مسلم دشمن مودی سرکار نے ریاست اترپردیش کے وارانسی (بنارس) میں قائم تاریخی گیانواپی مسجد کو متنازع بنا کر منہدم کرانے کا جواز ڈھونڈنے کا عمل تیز کر دیا ہے، تاریخی مسجد  کے احاطے میں ’اے ایس آئی‘ کا سروے جاری ہے اور ٹیم جمعہ کو بھی مقررہ وقت پر جانچ پڑتال کرنے پہنچ گئی۔

اے ایس آئی سروے میں مختلف مشینیں بھی استعمال کر رہا ہے۔ بنیاد سے لے کر عمارتوں تک کی تاریخ کا پتہ لگانے کے لئے ان حصوں کی تھری ڈی میپنگ بھی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

نماز جمعہ کے دوران امام کعبہ کی طبعیت اچانک خراب ہوگئی

عہدیداروں کے مطابق کانپور کے ماہرین بھی گیانواپی سروے میں اے ایس آئی ٹیم کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ ٹیم جدید ٹیسٹنگ مشینوں کے ساتھ پہنچی ہے جس میں گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار (جی پی آر) دیواروں کے پیچھے اور زمین کے نیچے جانچ پڑتال کرے گی۔

کانپور ٹیم کی آمد سے سروے میں شامل ارکان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پہلے جہاں 42 ممبران سروے کر رہے تھے اب ان کی تعداد 52 ہوگئی ہے۔

سروے کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی ٹیم نے جمعرات کو گیانواپی مسجد کے احاطہ میں مختلف مقامات کی فوٹو اور ویڈیو گرافی کی۔ اس کے علاوہ احاطہ کے مختلف حصوں میں جدید ترین مشینوں کی مدد سے پیمائش بھی کی گئی۔

صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک تقریباً سات گھنٹے کے سروے میں اے ایس آئی کی ٹیم نے سائنسی طریقے سے اپنی تحقیقات جاری رکھی۔ گیانواپی مسجد کے آس پاس واقع مکان کی چھت پر سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا تاکہ کہیں سے بھی بغیر اجازت کے کوئی فوٹو گرافی یا ویڈیو گرافی نہ کی جا سکے۔

Related Posts