بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بڑی مشکل میں پھنس گئے جنہیں جنسی درندہ سمجھا جارہا ہے کیونکہ ان کا نام جنسی درندے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے جرائم کے ثبوتوں پر مبنی ایپسٹین فائلز میں آگیا ہے، جس سے وزارتِ عظمیٰ کی کرسی خطرے میں پڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی اپوزیشن پارٹی نے مودی پر کڑی تنقید کی ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بدنامِ زمانہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ مودی کے نام کا منسلک ہونا بھارت کیلئے انتہائی شرمناک ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایپسٹین نے ای میل میں واضح کیا کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا تھا۔
کانگریس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل جانے سے قبل ایپسٹین سے مشورہ کیا اور پھر اسرائیلی دورے کے دوران نریندر مودی نے اسرائیل میں امریکا کے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فائدے کیلئے ناچ گانا کیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے 4 سے 6جولائی 2017 کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا، اور کانگریس کے مطابق ایپسٹین کی ای میل اس دورے کے 3روز بعد سامنے آئی۔ اس سے قبل جون 2017 میں نریندر مودی کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ واضح ہوا کہ مودی اور جیفری ایپسٹین کا تعلق گہرا اور پرانا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس نے مزید کہا کہ یہ بھارت کے قومی وقار اور عالمی ساکھ کا مسئلہ ہے جس سے جواب طلب کرنا ہوگا۔ نریندر مودی کو بتانا ہوگا کہ وہ کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ وہ اسرائیل میں کیوں ناچے اور گائے؟ اور اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ پہنچا؟ ایپسٹین کے مطابق مودی کا دورہ کامیاب تھا۔
تاہم بھارتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی اور ان کے اسرائیل کے دورے کا ذکر کرنے والی ای میل کو مسترد کرتے ہیں۔ ترجمان وزارتِ خارجہ رندھیر جیسوال نے کہا کہ نریندر مودی کا دورہ جولائی 2017 حقیقت ضرور ہے تاہم باقی مبہم حوالوں کو ایک سزا یافتہ مجرم کے فضول خیالات کے طور پر دیکھتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








