کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی کے خلاف صوبائی محتسب کے فیصلے پر عملدرآمد عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جس سے انہیں وقتی ریلیف مل گیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب مونس علوی نے صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔
ان کی نمائندگی کرتے ہوئے معروف قانون دان ایڈووکیٹ عابد زبیری نے مؤقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو حب، وندر اور دیگر علاقوں میں بھی کام کرتا ہے، اس لیے اس پر وفاقی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے نہ کہ صوبائی ضابطوں کااطلاق ہو۔
عدالت نے اگرچہ محتسب کے مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کے حکم کو فی الحال معطل کر دیا ہے تاہم سی ای او کو یہ رقم عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کیس کے حتمی فیصلے تک یہ رقم محفوظ رکھی جا سکے۔
یہ کیس اس وقت منظرِ عام پر آیا جب کے الیکٹرک کی سابق چیف مارکیٹنگ آفیسر مہرین زہرہ نے صوبائی محتسب کو شکایت درج کروائی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ مونس علوی نے ان کے ساتھ دفتر میں ہراسانی اور ذہنی دباؤ کے حالات پیدا کیے۔ ان کے مطابق انہیں 2019 میں کے الیکٹرک میں کنسلٹنسی بنیاد پر خدمات کے لیے رکھا گیا تھا۔
تحقیقات کے بعد ریٹائرڈ جسٹس شاہ نواز طارق پر مشتمل محتسب آفس نے فیصلہ دیا کہ الزامات ثابت ہو چکے ہیں جس کے بعد مونس علوی کو نہ صرف عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا بلکہ 25 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
مزید برآں، محتسب نے تنبیہ کی تھی کہ اگر مونس علوی مقررہ مدت میں جرمانہ ادا نہ کریں تو ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کر لی جائے گی، جب کہ ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیا جا سکتا ہے۔
یہ کیس پاکستان کے کارپوریٹ سیکٹر میں اعلیٰ سطح پر احتساب کی ایک نادر مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو کہ کام کی جگہ پر اخلاقیات اور قانونی انصاف کے فروغ کی طرف ایک اہم قدم ہے تاہم سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس کی مزید سماعت قانونی دائرہ اختیار کے تعین کے بعد ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








