کیا اب انکی باری ہے! عدالت نے وزیراعلیٰ گنڈا پور اور علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کیوں جاری کردیئے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Non-bailable arrest warrants issued for Gandapur, other PTI leaders in protest case
ARY NEWS

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 18 سرکردہ رہنماؤں کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے یہ وارنٹس اس بنیاد پر جاری کیے کہ تمام ملزمان عدالت میں بارہا طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔

استغاثہ کے مطابق، ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہو چکے ہیں، جس پر عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا ہے کہ تمام افراد کو گرفتار کرکے 8 اگست 2025 تک عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔

وارنٹ گرفتاری حاصل کرنے والے دیگر نمایاں ناموں میں شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، سردار منصور سلیم، زبیر خان نیازی، اجمل صابر اور عامر مغل شامل ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو بھی ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے تاکہ کیس کی سماعت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ وارنٹس استغاثہ کی جانب سے دائر اس درخواست پر جاری ہوئے جس میں بتایا گیا تھا کہ ملزمان بار بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے، اور عدالتی عمل کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

قبل ازیں آج انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات، خصوصاً میانوالی جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے ایک گرفتار کارکن محمد اسماعیل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

اسی کیس میں احمد خان بھچر، بلال اعجاز اور احمد چٹھہ سمیت پی ٹی آئی کے 51 رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔

مذکورہ مقدمہ سٹی پولیس اسٹیشن میانوالی میں ایف آئی آر نمبر 349 کے تحت درج ہے، جو 9 مئی کی گرفتاریوں اور مظاہروں کے بعد پارٹی قیادت اور کارکنان کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ تمام اشتہاری ملزمان کو ایک ماہ کے اندر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔

Related Posts