احمد آباد: بھارت میں قدیم پل گر جانے کے باعث ہلاکتوں کے مقدمے میں تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی جس میں پل کمزور ہوجانے کے باوجود 3000 سے زائد ٹکٹس فروخت کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق گجرات کے موربی پل حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں افسوسناک انکشافات سامنے آئے ہیں جس میں پل کی مرمت اور انتظام و انصرام کی خامیاں بے نقاب ہوگئیں۔
بھارت میں قدیم پل گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 141ہوگئی، درجنوں لاپتہ
تحقیقاتی رپورٹ میں مرمت نہ کیے گئے اینکر، ڈھیلے بولٹ اور غیر تربیت یافتہ ملازمین جیسے اسباب خوفناک حادثے کی وجہ بن گئے۔ ایف ایس ایل رپورٹ بھی سامنے آگئی۔
ایف ایس ایل رپورٹ میں آگہی دی گئی کہ پل کے وزن میں میٹل کی نئی تہہ کے باعث اضافہ ہوا۔ عدالت میں استغاثہ کا کہنا تھا کہ مرمت کرنے والے دونوں ٹھیکے دار بھی مرمت کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔
پولیس نے 30 اکتوبر کو پیش آنے والے افسوسناک حادثے کیلئے 9 ملزمان کو گرفتار کرل یا جن میں سے 4 کا تعلق اوریوا گروپ سے ہے۔ سرکاری وکیل وجے جانی نے سماعت کے دوران مزید انکشافات کیے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ تحقیقات سے علم ہوا کہ جس کیبل پر پورا پل لٹکا ہوا تھا، وہ زنگ آلود تھا، زمین پر کیبل جوڑنے والے اینکر پن ٹوٹ گئے جبکہ ان پر لگے بولٹ 3انچ ڈھیلے تھے۔
وکیل نے کہا کہ اوریوا گروپ نے 30 اکتوبر کو پل کمزور ہونے کے باوجود 3 ہزار 165 ٹکٹس فروخت کیے اور پل کی دونوں طرف ٹکٹ بکنگ دفاتر کے مابین کوئی رابطہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار کیے گئے بکنگ کلرکس نے ٹکٹس کی فروخت جاری رکھی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پل پر جانے کی اجازت دے دی، جبکہ پل کی حالت دیکھتے ہوئے فروخت بند کرنا ضروری تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








