شیخوپورہ سے 3ماہ قبل 4بچوں کے ہمراہ کراچی آنے والی ماں آسیہ کا کوئی پرسانِ حال نہیں، جس نے شیلٹر ہوم میں داخلے کے بعد اپنی 8سالہ بیٹی سے زیادتی کا انکشاف کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خاتون کو سی پی ایل سی اور پولیس نے بازیاب کرایا جو اورنگی ٹاؤن میں سموسے رول کا ٹھیلا لگاتی تھی، خاتون کے شوہر نے شیخوپورہ کے تھانے میں بیوی بچوں کے اغوا کا مقدمہ درج کروارکھا تھا۔
بعد ازاں سی پی ایل سی اور پاکستان بازار پولیس نے خاتون کو تلاش کیا اور سہراب گوٹھ میں واقع شیلٹر ہوم میں منتقل کردیا۔ خاتون نے انکشاف کیا کہ ان کی 8سالہ بیٹی مریم کو حلیم فروش شخص نے زیادتی کانشانہ بنایا ہے۔
خاتون نے بتایا کہ وہ گلشن ضیا، الطاف نگر میں اپنے ٹھیلے پر موجود تھی کہ اسی دوران بیٹی سے کہا کہ اپنے میلے کپڑے تبدیل کرکے آجاؤ۔ جب بیٹی واپس آئی تو ہاتھ میں 40روپے تھے اور سہمی ہوئی تھی، جس نے خاتون کو اس وقت کچھ نہیں بتایا۔
آسیہ نے بیان دیا ہے کہ مجھے ایک ہفتے بعد بیٹی نے بتایا کہ وہ گھر جارہی تھی تو حلیم والے شخص افتخار نے پیچھے سے آ کر کپڑے اتار کر زبردستی کی اور کسی کو بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ اسی دوران پولیس نے ہمیں تلاش کیا اور شیلٹر ہوم لے گئی۔
پاکستان بازار پولیس نے خاتون کا بیان سامنے آنے کے بعد حلیم فروش افتخار حسین کو گرفتار کرکے میڈیکل کروالیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شیخوپورہ پولیس کو بھی اس معاملے سے آگہی دے دی گئی ہے۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








