ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور برفباری سے سردی کی شدت میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کہیں بارش نے خنکی بڑھا دی تو کہیں برفباری نے پہاڑوں کو سفید چادر اوڑھا دی۔
بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ، چمن اور گوادر میں بارش سے سردی بڑھ گئی جبکہ توبہ اچکزئی کے مختلف علاقوں میں برفباری ریکارڈ کی گئی۔ چمن اور اطراف کے علاقوں میں بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی بعض مقامات پر سیلابی ریلے آبادی میں داخل ہو گئے۔ لسبیلہ اور وندر میں بھی بارش ہوئی جبکہ کوئٹہ اور گردونواح میں بارش کے باعث 40 سے زائد فیڈرز بند کر دیے گئے، سمنگلی روڈ، اسپنی روڈ بروری اور مغربی بائی پاس کے مختلف علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برفباری ہوئی۔ رزمک، شوال، وانا، برمل اور شکئی کے بالائی علاقوں میں بارش کے بعد برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں برفباری کے باعث بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں جبکہ بابوسر ٹاپ پر وقفے وقفے سے برفباری جاری رہی۔ چلاس کے پہاڑی علاقوں میں بھی برفباری دیکھی گئی اور سرد ہواؤں نے شدت اختیار کر لی۔
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھی برفباری ہوئی، اڑنگ کیل، گریس ویلی اور تاؤ بٹ میں برف کے سفید گالے برستے رہے جس سے علاقہ سردی کی لپیٹ میں آ گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری اور گلیات میں بھی برفباری کا امکان ہے۔
سندھ میں موسمِ سرما کی پہلی بارش برس گئی۔لاڑکانہ، جیکب آباد، نوڈیرو، سکھر، شکارپور، خانپور، لکھی غلام شاہ اور گڑھی یاسین میں بادل برسے جس کے باعث خنکی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ حیدرآباد میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








