کراچی، ڈکیتی مزاحمت پر کتنے شہری قتل؟ کتنے زخمی ہوئے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے واقعات میں گزشتہ 1 ماہ کے دوران تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کسی حد تک کم ہوگئیں۔

شہرِ قائد میں  ڈکیتی مزاحمت پر قتل کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ سی پی ایل سی کا کہنا ہے کہ جون میں 40افراد کو قتل کیا گیا جبکہ مئی کے دوران یہ تعداد 45 رہی۔ تاہم مئی میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل افراد کی تعداد 3 تھی۔

جون کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 11شہریوں کو قتل کیا گیا۔ رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ڈاکوؤں نے 72 شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ جنوری میں 13، فروری میں 20، مارچ میں 11 جبکہ اپریل میں 14افراد قتل کردئیے گئے۔

ڈاکوؤں نے مئی میں لوٹ مار کے دوران 30افراد کو زخمی بھی کردیاجبکہ جون کے دوران 35افراد زخمی ہوئے تھے۔ جنوری میں 53، فروری میں 45، مارچ میں 56 جبکہ اپریل میں 34افراد کو زخمی کیا گیا۔ رواں سال کے آخری 6 ماہ میں 254افراد زخمی ہوگئے۔

آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ جون کے دوران اسٹریٹ کرائم کی پر تشدد وارداتیں بڑھ گئی ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائمز بتدریج کم ہورہے ہیں۔ مئی میں روزانہ اسٹریٹ کرائم کے 174واقعات رپورٹ کیے جارہے تھے۔

جون میں اسٹریٹ کرائم کے روزانہ رپورٹ کیے جانے والے واقعات کم ہو کر 152رہ گئے۔ مئی میں گن پوائنٹ پر 1 ہزار 420 موبائل فون چھین لیے گئے جبکہ جون میں چھینے گئے موبائل فونز کی تعداد کا تخمینہ 1 ہزار 414 لگایا گیا ہے۔

Related Posts