سینئر پاکستانی اداکار فردوس جمال کا موسیقی اور اسلام کے بارے میں حالیہ بیان سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے، جس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
“وارث”، “پیارے افضل”، “خدا اور محبت” اور “منچلے کا سودا” جیسے مقبول ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری سے شہرت پانے والے فردوس جمال نے ایک پوڈکاسٹ میں موسیقی اور مذہب کے رشتے پر دلچسپ خیالات شیئر کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن یہ درحقیقت “آسمانوں کی زبان” ہے، جو روح کو سکون دیتی ہے اور جنت میں بھی اس کی گونج سنائی دے گی۔
انہوں نے معاشرے کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم موسیقی سے لطف تو اٹھاتے ہیں لیکن جب کوئی گلوکار بنتا ہے تو اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
فردوس جمال نے اس رویے کو منافقت قرار دیا اور زور دیا کہ نعت، اذان اور قرآن کی تلاوت میں بھی راگ اور سُر کی خوبصورتی ہوتی ہے، جو ان کی معنویت کو دوبالا کرتی ہے۔ ان کے بقول، موسیقی کی خوش آہنگی ہی اس کا اصل جادو ہے۔
ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ جہاں کچھ لوگ ان کے خیالات کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں کئی صارفین نے موسیقی کو مذہب سے جوڑنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
فردوس جمال کا یہ بیان نہ صرف موسیقی کے بارے میں ہمارے معاشرتی رویوں پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ایک گہری بحث کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا موسیقی واقعی روح کی غذا ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








