بھارت میں کافی عرصے سے مسلمانوں کیخلاف ہندو انتہاپسند کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مودی سرکار کی انتظامیہ نے نئی دہلی میں چالیس قبل تعمیر کیے گئے مسلمانوں کے گھروں ،مسجد کے گیٹ اور قریبی دکانوں کو غیر قانونی تجاوزات قرار دیتے ہوئے اُن پر بلڈوزر چلادیئے۔
خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے گھروں اور دکانوں کو مسمار نہ کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو مقامی ہندوانتہا پسند رہنماؤں کے حکم پر گرایا جارہا ہے اور اُن کو سامان نکالنے کا موقع بھی نہیں دیا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ریاست اتر پردیش میں ہندوانتہاپسند غنڈوں نے مسجد کوآگ لگا کرشہید کردیاتھا، گجرات میں ہندوانتہاپسندوں کے مجمعے نے مسجد کے سامنے تلواریں لہرا کررقص کیا اورجنگی نعرے لگائے اورمسلمانوں کو دھمکیاں دیں۔ انتہاپسندوں نے مسجد پردھاوا بول کرتوڑپھوڑ بھی کی تھی۔