دہلی میں خواتین کانفرنس 2023 بعنوان تحفظ نسل مسلم ایوان غالب (غالب انسٹیٹیوٹ) میں منعقد ہوئی۔ ملک کے طول و عرض سے 35 سے زائد اہم مندوبات اس کانفرنس میں شریک ہوئیں۔ کانفرنس کی صدار ت ڈاکٹر اسما زہرا نے کی۔
کانفرنس میں اہم عنوانات جیسے اولاد کی تربیت ‘ عقائد ، اخلاق ، آداب، والد کی ذمہ داریاں، ماں کی ذمہ داریاں، اساتذہ کا رول، سوشل میڈیا کے مضر اثرات تحفظ نسل مسلم کی ضرورت اور اہمیت پر دانشور خواتین نے مخاطب کیا۔
کانفرنس کی کنوینر ممدوحہ نے کانفرنس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا اس دور کے بیشمار چیلنجز ہیں اس میں ایک اہم چیلنج نسل مسلم کی اسلامی خطوات پر آبیاری اور گمراہی سے تحفظ ہے۔ اس مقصد کیلئے دانشور خواتین و اساتذہ ، ماؤں کو جوڑ کر منظم کوشس کرنا اور صحیح حکمت عملی اور لائحہ عمل پیش کرنے کیلئے مسلم ویمن ایسوسی ایشن سرگرم عمل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
مزیدار ربڑی کا ہندوستان سے پاکستان تک کا سفر
محترمہ زینت مہتاب جوائنٹ کنوینر نے اپنے خطاب میں خواتین کو انکے مقام و ذمہ داری کا احساس دلایا اور کہا کہ اولاد ایک عظیم نعمت اور امانت ہے۔ ان کی تعلیم و تربیت اور اصلاح و ترقی کیلئےکوشش کرنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے پرانی دہلی اور نئ دہلی کے بیشتر علاقوں میں ورک شاپ منعقد کئے گئے اور آج کی یہ کانفرنس میں خواتین کی کثیر تعداد ان ورک شاپ پر کی گئی محنت کا نتیجہ ہے۔
افروز فاطمہ جعفری جوائنٹ کنوینر نے بیت المسلم کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان گھرانوں کے لیل و نہار، گھروں کی تہذیب ، آداب و گفتگو اخلاق، رہن سہن، طور طریقے، عادات و اطوار، بڑوں کا ادب و احترام ، چھوٹوں پر شفقت یی سب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اس کا رواج گھروں میں قائم کرنا خاتون خانہ کی ذمہ داری ہے۔
ڈاکٹر اسماء زہرہ نے اپنے صدارتی خطاب میں مسلم خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالی اورکہا کہ خواتین ملت اسلامیہ کا نصف حصہ ہیں۔ خواتین کی تعلیم و تربیت ، اصلاح و ترقی کےلئے کوشش کرنا ، اور ان کے مسائل کا شرعی و قانونی حل پیش کرنا بہت ضروی ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیٹیوں کی تربیت میں حجاب کی پابندی کو لازمی بنائیں ، انہوں نے حجاب کو اسلام کا لازمی جز بتایا اورکہا کہ جس طرح مسجد اور نماز ضروری ہے اس طرح خواتین کے لئے پردہ کی پابندی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین اور ان کا لباس، حجاب، شریعت اسلامی میں ان کا مقام ، شادی کی عمر، خلع کے حقوق، جائیداد میں ان کا حصہ، سب نشانہ پر ہے۔ اس کی حفاظت ہم پر ضروری ہے
ایک جانب میڈیا غلط تاویلات و تشریحات پیش کر رہا ہے۔دوسری جانب ملی قائد ین بھی سچ اور حق بتانے سے گریز کررہےہیں اورکترارہے ہیں۔ایسے وقت میں صوت الحق اور ندائے حق کی صدا لگانا عظیم خدمت ہے۔
آسام میں غریب مسلم خاندانوں میں شعور کی کمی کی وجہ سے جو لڑکیوں کی شادی سترہ’ اٹھارہ سال۔میں کردی گئی ‘اسکو بہانہ بناکر فاسکو ایکٹ Pasco Act میں 4 ہزار سے زاید کیسس بک کئے گئے اور اکثرمسلم۔گھرانوں سے باپوں کو، شوہروں کو اور قاضیوں کو جیل میں ڈالا گیا ہے۔ یہ سراسر ظلم و زیادتی ہے۔ اس کے خلاف عدالت عظمی میں پیٹیشن ڈالنا بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹر اسما زہرا نے نوجوان لڑکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔کہ آج کا دور سائنس و ٹکنالوجی کا دور یے ۔وقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے لائبرری، لباٹرئیز سے جڑیں ، اور ملت اسلامیہ کا قیمتی اثاثہ بنیں۔
انھوں نے خواتین سے اپیل کی کہ خیر کے کاموں کیلئے اور ملت کی خدمت کیلئے آگے آیئں اورملت اسلامیہ کے تحفظ و بقاء و ترقی کے لئے طویل جدوجہد کے لئے تیار ہو جائیں۔
اس کانفرنس میں بنت المسلم کی طالبات نے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کو ابتدا ہی سے سیرت صحابی و صحابیات سیکھنے اور انہی کو اپنا رول۔ماڈل بنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ طالبات نے مسلم لڑکیوں کی بیش بہا قیمت اور اسلام میں انکے اعلی مقام کو اجاگر کیا۔
کانفرنس میں کولکتہ سے ڈاکٹر نیلم غزالہ ‘ ڈاکٹر سمیہ ناز ‘ بھوپال سے ڈاکٹر صوفیہ فاطمہ ، پٹنہ سے ھدی روال ، نکہت خاں ‘ ڈاکٹر شاہین محترمہ انور جہاں محترمہ فرحہ جاوید ‘محترمہ نجمہ پروین ‘ محترمہ وزنہ ‘ دیوبند سے عذرا خاں ، محترمہ حمیرہ خان ، پونہ سے محترمہ ثوبیہ لولہ ‘ محترمہ ایفا لولے، حیدرآباد سے محترمہ شمیم فاطمہ ‘ محترمہ فرحانہ عزیز، محترمہ تہنیت اطہر ‘ مرادآباد سے محترمہ ام۔محمد الہی ‘ محترمہ عریشہ ، محترمہ آصفہ ‘ محترمہ صالحہ اور دیگر ریاستوں و شہروں اوردہلی کے اطراف و اکناف وگرد ونواح سے خواتین و۔طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کیں ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








