ایرانی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سے جان بوجھ کر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، بڑھتے ہوئے متعصبانہ واقعات سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی پریس ٹی وی کی رپورٹ نے بھارت کی نریندر مودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیاں بے نقاب کردیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہ ےکہ بھارت میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر تعصب کا نشانہ بنایا جارہا ہے، مہاراشٹر میں 3 مسلمان طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر مورتی کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا گیا۔
مسلمان طلبہ کو مورتی کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کا واقعہ نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی آزادی کے بھی خلاف ہے جبکہ عالمی قوانین کے ساتھ ساتھ خود بھارتی آئین کے مطابق بھی کسی مذہب کے ماننے والے کو کسی دوسرے مذہب کے عقائد اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 25 مذہبی آزادی پر مبنی ہے جس کے مطابق بھارت کے ہر شہری کو کوئی بھی مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔ کسی کو زبردستی کسی دوسرے مذہبی عمل پر مجبور کرنا اس آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے۔ آرٹیکل 28 کی ذیلی دفعہ 3 کے مطابق بھارتی سرکاری تعلیمی اداروں میں کسی بھی طالب علم کو مذہبی سرگرمی میں زبردستی شامل نہیں کیاجاسکتا۔
اس حوالے سے ایرانی پریس ٹی وی کا مزید کہنا ہے کہ تاج محل کے قریب مسلم ٹیکسی ڈرائیورز کو 2 نوجوانوں نے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
پریس ٹی وی کا کہنا تھا کہ بھارتی شہر بریلی میں مسلمانوں کی 2 منزلہ مارکیٹ کو غیر قانونی کہہ کر منہدم کیا گیا، یہ سب حقائق بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو جان بوجھ کر تعصب کا نشانہ بنانے کا مظہر ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








