ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ، تینوں حملہ آور افغان شہری نکلے

تازہ ترین

تازہ ترین

ایف سی
(فوٹو: اردو پوائنٹ)

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکوں پر تفتیش جاری ہے۔ نادرا نے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی۔

حال ہی میں سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی افغان شہریت کے علاوہ مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔دہشت گردی سے متعلق اب تک 100 سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

تفتیشی اداروں نے حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے ایف سی ہیڈ کوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کرلی۔ حملے کے روز خودکش حملہ آوروں نے کوئی موبائل فون استعمال نہیں کیا۔ تفتیشی ٹیم نے مزید سہولت کاروں ک تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ آج سے چند روز قبل ایف سی ہیڈ کوارٹز پشاور پر خودکش حملے میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے اپنی رپورٹ میں دھماکے کو خودکش قرار دیا اور بتایا کہ ریموٹ کنٹرول بم کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے میں دہشت گردوں نے 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا جسے جیکٹس میں آگے اور پیچھے 2 حصوں میں تقسیم رکھ کر زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ دھماکے کے اثرات 30 میٹر تک پہنچ چکتے تھے۔ جائے وقوعہ سے 8دستی بم برآمد ہوئے۔

اس کے علاوہ جائے وقوعہ سے دو فٹ پرائما کورڈ، دو ملی میٹر سائز کے بال بیرنگ اور دو فٹ لمبی کٹی ہوئی تار بھی برآمد ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق تمام شواہد کو لیبارٹری تجزئیے کیلئے جمع کرلیا گیا، منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے حملے کو بر وقت جوابی کارروائی نے روک دیا جس سے بڑا نقصان ٹل گیا ہے۔ حملے میں 3 جوانوں کی شہادت کے علاوہ 5جوان اور 8شہری زخمی ہوئے تھے۔

Related Posts