بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن خالدہ ضیاء کی حالت انتہائی نازک ہے اور وہ ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔ انہیں 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اسپتال ذرائع کے مطابق 29 نومبر کی شام تک ان کی حالت مستحکم رہی۔
ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر اے زی ایم زاہد حسین نے بتایا کہ گزشتہ تین روز سے ان کی حالت میں نہ بگاڑ آیا ہے نہ بہتری تاہم وہ ادویات کا اچھا جواب دے رہی ہیں۔ انہوں نے عوام سے دعا کی اپیل بھی کی۔
خالدہ ضیاء کو پہلے سے کئی دائمی طبی مسائل لاحق ہیں جن میں دل کی دھڑکن کو برقرار رکھنے کے لیے پیس میکر، دل کی شریانوں میں اسٹنٹس، جگر اور گردوں کے مسائل، ذیابیطس، پھیپھڑوں کی بیماریاں، جوڑوں کا درد اور بینائی سے متعلق پیچیدگیاں شامل ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کی مجموعی صحت نازک ہے اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
بی این پی کے رہنماؤں نے بھی ان کی صحت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا ہے کہ ان کی حالت بہت نازک تھی جبکہ نائب چیئرمین احمد عزام خان نے بتایا کہ اگر ان کی طبی حالت بہتر ہوئی تو بیرونِ ملک علاج کے لیے ایئر ایمبولینس پہلے سے موجود ہے۔ خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان نے ایک ویڈیو پیغام میں عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دعا کریں ان کی والدہ جلد صحت یاب ہوں۔
خالدہ ضیاء تین بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہ چکی ہیں۔ انہیں 2018 میں شیخ حسینہ کے دور حکومت میں بدعنوانی کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی اور انہیں بیرونِ ملک علاج کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد گزشتہ سال انہیں رہا کر دیا گیا۔ وہ 2026 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں اور بی این پی کو آئندہ انتخابات میں ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔
ان کی موجودہ صحت نے ملک کی سیاسی صورتِ حال میں نئی بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اسپتال کے باہر بڑی تعداد میں بی این پی کارکنان اور شہری جمع رہے اور ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ عام شہریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو خالدہ ضیاء جیسے تجربہ کار رہنما کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








