کراچی: پولیس نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات کے دوران تعلیمی اداروں میں منشیات فروخت کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس نے ان تعلیمی اداروں کی فہرست مرتب کر لی ہے جہاں منشیات کی فروخت جاری ہے جبکہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے بین الاقوامی منشیات اسمگلروں کی تلاش بھی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مقتول مصطفیٰ عامر، ملزم ارمغان اور گرفتار ملزم ساحر حسن سے برآمد ہونے والے شواہد کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
حکام نے منشیات استعمال کرنے والے نوجوانوں کے والدین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور متعدد کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
حکام نے نشے کے عادی طلبہ سے منشیات فروشوں کا ریکارڈ جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ منشیات امریکہ اور میکسیکو سے کوریئر کمپنیوں کے ذریعے پاکستان اسمگل کی جا رہی ہیں۔
ایک بڑی پیش رفت میں، حکام نے کسٹمز کے افسران سے بھی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ شبہ ہے کہ وہ بھی اس اسمگلنگ نیٹ ورک میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کاروباری شخصیات اور بااثر افراد کے بچے بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں، جبکہ کچھ اہم شخصیات گرفتاریوں کو روکنے اور ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
قبل ازیں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن نے منشیات خریدنے اور فروخت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
ساحر حسن اس وقت مصطفیٰ عامر قتل کیس میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں اور انہیں کراچی میں اس کیس کے بعد ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ساحر حسن نے کئی بڑے کاروباری شخصیات، سیاستدانوں اور دیگر افراد کے نام بتائے جو منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں۔
ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے والد ساجد حسن کے مینیجر کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منشیات کی ادائیگیاں کرتا تھا۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ پانچ سال سے ماڈلنگ کر رہا ہے اور 13 سال سے چرس کا عادی ہے۔
ساحر حسن نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ دو سال سے چرس فروخت کر رہا تھا اور پورا کاروبار اسنیپ چیٹ کے ذریعے چلاتا تھا۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ منشیات باذل اور یحییٰ نامی افراد سے حاصل کرتا تھا اور کوریئر کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں روپے مالیت کی منشیات اسمگل کر چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








