امریکا: نیویارک سٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ملکیتی تاریخی روزویلٹ ہوٹل کے ساتھ 220 ملین ڈالر کے لیز معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے جہاں تارکین وطن کو پناہ دی جا رہی تھی۔
یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد کیا گیا جنہوں نے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے پناہ گزینوں کو سہولت فراہم کرنے پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ مشہور ہوٹل 2020 میں کورونا وائرس وبا کے دوران شدید مالی نقصان کے باعث بند کر دیا گیا تھا۔ تین سال بعد انتظامیہ نے نیویارک سٹی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت اسے تارکین وطن کے لیے ایک پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا۔شدید دباؤ کے بعد نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز نے پیر کے روز اس سہولت کو بند کرنے کا اعلان کیا۔
رپورٹس کے مطابق ہوٹل میں 1025 کمروں کے ذریعے ہزاروں مہاجرین کو رہائش فراہم کی گئی تھی، جہاں فی کمرہ تقریباً 200 ڈالر یومیہ لاگت آتی تھی تاہم اب شہر میں مہاجرین کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
2023 کے بحران کے عروج پر جہاں ہر ہفتے تقریباً 4000 تارکین وطن نیویارک پہنچ رہے تھے، اب یہ تعداد گھٹ کر تقریباً 350 رہ گئی ہے۔
یہ ہوٹل نیویارک آنے والے تقریباً 75 فیصد مہاجرین کے لیے ایک اہم پروسیسنگ سینٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
میئر ایرک ایڈمز نے کہا کہ اس بندش کا فیصلہ ہنگامی ردعمل اور پالیسی اقدامات کی کامیابی کا نتیجہ ہے، جس سے شہر کو لاکھوں ڈالر کی بچت ہوگی۔
یہ تاریخی ہوٹل 1924 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا نام امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








