مصطفیٰ عامر کیس، ملزم ارمغان پر فرد جرم عائد کیوں نہ ہوئی؟ اہم خبر سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملزم ارمغان اور دیگر کے خلاف فرد جرم کی کارروائی کو جج کی رخصت کی وجہ سے ملتوی کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی اور شیراز کو پیش کیا گیا تاہم جج کی رخصت کے باعث مصطفیٰ عامر کیس میں فرد جرم کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ عدالت نے سماعت 9 ستمبر تک کے لیے موخر کر دی اور توقع ہے کہ اگلی سماعت میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو اگلی سماعت پر پولیس فائل کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی اور جیل حکام کو ملزمان کو اگلی سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ اگلے روز ان کی والدہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

25 جنوری کو ایک امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے کے تاوان کا مطالبہ موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئیں اور کیس کو اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) کے حوالے کیا گیا۔

بعد ازاں 9 فروری کو اے وی سی سی نے ڈیفنس میں ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اے وی سی سی کے ڈی ایس پی احسن ذوالفقار اور ان کے گارڈ زخمی ہو گئے۔

Related Posts