کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کی نفسیاتی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
سماعت کے دوران ملزم ارمغان نے عدالت کو بتایا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور انہیں کسی قسم کا ذہنی عارضہ لاحق نہیں۔ انہوں نے اپنے وکیل کی خدمات لینے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں دانستہ طور پر ذہنی مریض ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملزم نے عدالت سے کہا کہ انہیں وکیل کی ضرورت نہیں اور وہ اپنا مقدمہ خود لڑنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے ملزم کو متنبہ کیا کہ مقدمے میں عائد الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے اس لیے قانونی نمائندگی ضروری ہے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ فی الحال ملزم کے نفسیاتی معائنے کی ضرورت ثابت نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ مقدمہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں 23 سالہ مصطفیٰ عامر کے مبینہ اغوا اور قتل سے متعلق ہے، جس میں ارمغان قریشی کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 26 فروری 2026 تک ملتوی کر دی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








