پاکستان میں آٹے کے بحران کے باعث نان اور روٹی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔
حکومت، ضلعی انتظامیہ اور آل بیکرز آرگنائزیشن کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد نان بائیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج (9 ستمبر) سے نان، روٹی، پراٹھے اور روغنی نان کی قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
یہ اعلان پاکستان نان بائی ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب کے 43 اضلاع کے بیکرز گروپس نے مشترکہ طور پر کیا۔
انتظامیہ کی جانب سے بیکرز قیادت کو مذاکرات کے لیے بلایا گیا، تاہم ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے گرفتاریوں سے بچنے کے لیے رابطے بھی ترک کر دیے۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
پاکستان نان بائی ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر شفیق قریشی کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے نے پرانی ریٹ لسٹ برقرار رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 79 کلو چکی کے آٹے کا تھیلا، جو 31 اگست تک 5 ہزار 435 روپے میں مل رہا تھا، وہ اب فلور ملز سے 9 ہزار 200 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 9 ہزار 700 روپے تک جا پہنچا ہے۔
اسی طرح فائن آٹے کا تھیلا 6 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر 9 ہزار 800 روپے اور مارکیٹ میں 10 ہزار 400 روپے تک جا پہنچا ہے۔
شفیق قریشی نے کہا کہ ایسی صورتحال میں 14 روپے میں روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے روٹی کی قیمت بڑھا کر 20 روپے جبکہ نان اور پراٹھے کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت پرانے آٹے کے ریٹ بحال کر دے تو نان بائی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کو تیار ہیں لیکن 9 ہزار روپے سے زائد میں آٹے کے تھیلے خرید کر سستی روٹی فروخت نہیں کی جا سکتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








