نیب کا نیا ہتھیار؛ بدعنوانی کے جال کو توڑنے کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ سوشل میڈیا)

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مالیاتی جرائم کی تحقیقات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (این سی اے آئی) کے تعاون سے کیا جا رہا ہے جو پاکستان میں احتساب کے نظام میں ایک بڑی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

نیب حکام کے مطابق، اس اقدام کا بنیادی مقصد ادارے کی صلاحیتوں کو اس سطح تک بڑھانا ہے جہاں وہ بڑے اور پیچیدہ مالیاتی مقدمات کو مؤثر انداز میں حل کر سکے، خاص طور پر وہ کیسز جن میں رقم کے پیچیدہ بہاؤ اور چالاکی سے چھپائے گئے لین دین شامل ہوں۔

مصنوعی ذہانت سے لیس جدید ٹولز کی مدد سے تحقیقاتی افسران اب بینکنگ ریکارڈز کا سراغ لگا سکتے ہیں، مالیاتی لین دین کا تجزیہ کر سکتے ہیں، اور مختلف اداروں یا افراد کے درمیان چھپے ہوئے روابط کو اس رفتار اور درستگی سے بے نقاب کر سکتے ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھی۔

نیب کے ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیمیں اب خفیہ مالیاتی روابط اور مشکوک لین دین کو غیرمعمولی تیزی اور درستگی سے شناخت کر رہی ہیں۔

این سی اے آئی اور نیب کے اشتراک سے ایسے اے آئی ماڈیولز تیار کیے جا رہے ہیں جو نیب کی مخصوص تحقیقاتی ضروریات کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نیب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق رکھنے کے لیے مسلسل تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

نیشنل سینٹر آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے چیئرمین ڈاکٹر ایاز نے نیب کے اس فیصلے کو بصیرت افروز اور دور اندیش” قرار دیا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو پاکستان کا سب سے جدید اور ٹیکنالوجی سے آراستہ احتسابی ادارہ بنانے میں ہمارا تعاون جاری رہے گا۔

ماہرین کے مطابق نیب میں مصنوعی ذہانت کا انضمام پاکستان میں کرپشن کے خلاف جنگ میں ایک بڑا قدم ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف مالیاتی جرائم کی شناخت اور چھان بین کی رفتار بڑھے گی بلکہ ہائی پروفائل مقدمات میں مؤثر قانونی کارروائی کے امکانات بھی بہتر ہوں گے۔

Related Posts