ملتان: نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں دفاعی چیمپئن ناردرن نے سدرن پنجاب کو 27 رنز سے شکست دیکرمسلسل دوسری کامیابی حاصل کرلی جبکہ بلوچستان نے سندھ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 رنز سے شکست دے دی۔
ناردرن کے 203 رنز کے جواب ميں سدرن پنجاب کی ٹيم مقررہ 20 اوورز ميں 9 وکٹوں پر 176رنز ہی بنا سکی۔ سدرن پنجاب کے وکٹ کیپر بیٹسمین ذیشان اشرف نے 37 گیندوں پر 73 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی تاہم وہ میچ کا کامیاب اختتام کرنے میں ناکام رہے۔
بائیں ہاتھ کے اوپنر کی اننگز میں 8 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔ ناردرن کے فاسٹ باؤلر حارث روف نے 24 رنز کے عوض 4 کھلاڑيوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ لیگ اسپنر شاداب خان نے 31 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اس سے قبل ناردرن کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جيت کر بيٹنگ کا فيصلہ کيا تو اوپنر علی عمران کی نصف سنچری کی بدولت ناردرن نے مقررہ بیس اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز بنائے۔
علی عمران نے 39 گیندوں پر 3 چھکوں اور 3 چوکوں کی بدولت 50 رنز بنائے۔محمد نواز اور آصف علی نےبالترتیب 31 ا ور 29 رنز ناٹ آؤٹ جبکہ حیدر علی اور کپتان شاداب خان نے 28، 28 رنز بناکر ٹیم کا مجموعہ 200 کے پار پہنچانے میں مدد کی۔
زاہد محمود نے 3 اور محمد عرفان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ناردرن کے کپتان شاداب خان کو میچ میں آلراؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
شاداب خان کا کہنا ہے کہ وہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کرنے پر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل دو فتوحات سے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور وہ ایونٹ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے کے لیے پرامید ہیں۔
اس سے قبل بلوچستان نے سنسنی خيز مقابلے کے بعد سندھ کو 2 رنز سے شکست دےدی۔ بلوچستان کے 181رنز کے تعاقب ميں سندھ کی ٹيم مقررہ 20 اوورز ميں 9 وکٹوں پر 178 رنز ہی بنا سکی۔
سندھ کےسہيل خان نے16 گيندوں پر 2 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 31 رنز کی اننگز کھیل کر میچ کو دلچسپ مرحلے میں پہنچا دیا تاہم وہ ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
اسد شفيق32 جبکہ سرفراز احمد اور انور علی 20، 20 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔بلوچستان کے آل رؤنڈر عماد بٹ نے 39 رنز دے کر 3 کھلاڑيوں کو پویلين کی راہ دکھائی۔
اس سے قبل بلوچستان کے کپتان حارث سہيل نے ٹاس جيت کر بيٹنگ کا فيصلہ کيا۔ بلوچستان کے وکٹ کيپر بيٹسمين اور پلئير آف دی ميچ بسم اللہ خان کی نصف سنچری کی بدولت بلوچستان نے 20 اوورز ميں 8 وکٹوں کے نقصان پر 180 رنز بنائے۔
بسم اللہ خان نے 4 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 58 رنز اسکور کئيے اور چوتھی وکٹ کے ليے کپتان حارث سہيل کے ساتھ 69 رنز کی پارٹنرشپ بنائی۔ فاسٹ باؤلر محمد حسنين نے 31 رنز دے کر 2 کھلاڑيوں کو آؤٹ کيا۔
مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیتنے والے بلوچستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین بسم اللہ خان کاکہنا ہے کہ اننگز کے آغاز میں تو کریز پرروکنا ہی ان کا ہدف تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا توانہوں نے ایک منظم حکمت عملی کے تحت رنز بنانے کی رفتار تیز کردی۔
انہوں نے کہا کہ وہ روز بروز اپنے کھیل میں نکھار لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کا صلہ ہے کہ ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں انہوں نے ایسی نصف سنچری بنائی جس نے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
بسم اللہ خان نے کہا کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے لوگ ان سے بہت محبت کرتے ہیں اور اچھی کارکردگی کے بعد ان کے موبائل پر مبارکبادی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔دونوں ٹیمیں گیارہ اکتوبر کو راولپنڈی میں ایک بار پھر مدمقابل آئیں گی۔