مقبوضہ کشمیر میں فطرت کی غضبناک جھلک؛ اچانک سیلاب آنے سے 34 ہلاک، 200 سے زائد لاپتہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ رائٹرز)

مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے علاقے چاسوتی میں شدید بارش کے باعث آنے والے اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں کم از کم 34 افراد جاں بحق جبکہ 200 سے زائد افراد لاپتہ ہو گئے۔

افسوسناک واقعہ مچھیل ماتا مندر کی یاترا کے راستے پر پیش آیا جہاں بڑی تعداد میں زائرین عارضی قیام کے لیے جمع تھے۔ کمیونٹی کچن اور سیکیورٹی چیک پوسٹ بھی پانی میں بہہ گئے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک افسر نے میڈیا کو بتایا کہ دوپہر کا وقت تھا زائرین کھانے میں مصروف تھے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے سب کو بہا دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ پانی اتنی تیزی سے آیا کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ مقامی ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں زائرین کو خوف و ہراس میں چیختے چلاتے اور پانی سے بچنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

کشتواڑ کے ڈویژنل کمشنر رمیش کمار کے مطابق واقعہ صبح 11:30 بجے پیش آیا۔ فوری طور پر پولیس، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں اور فوجی دستے جائے وقوعہ پر پہنچے جبکہ فضائیہ کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں امید ہے لاپتہ افراد کو جلد تلاش کر لیا جائے گا۔

سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خبریں تشویشناک ہیں اور متاثرہ علاقے سے مصدقہ معلومات سست رفتاری سے موصول ہو رہی ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ کیا ہوتا ہے؟

محکمہ موسمیات کے مطابق، کلاؤڈ برسٹ ایک قدرتی آفت ہے جس میں صرف ایک گھنٹے میں 100 ملی میٹر یا اس سے زائد بارش ہوتی ہے۔ یہ اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈز اور بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

سری نگر کے محکمہ موسمیات نے مزید شدید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے کشتواڑ سمیت کئی علاقوں میں مٹی کے تودوں اور فلیش فلڈز کا الرٹ جاری کیا ہے اور شہریوں کو خستہ حال عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور پرانے درختوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

Related Posts