نیپال میں حالیہ پرتشدد مظاہروں اور عوامی غصے نے پورے خطے کو حیران کر دیا ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عوام نے نہ صرف جلاؤ گھیراؤ کیا بلکہ وزیروں کے گھروں پر حملے کرتے ہوئے انہیں سخت نقصان بھی پہنچایا۔
🇳🇵Stripping politicians, kicking and hurting them, burning their houses, and whatnot!?
The question is, what next for #Nepal which was just finding its feet as a federal democratic republic since 2008.
The point is. Do they understand that democracy ain't always perfect!? pic.twitter.com/ceBQLeXnGc
— Saikiran Kannan | 赛基兰坎南 (@saikirankannan) September 9, 2025
اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم شیر بہادر دیوبا، ان کی اہلیہ اور موجودہ وزیر خارجہ آرزو رانا دیوبا بھی عوامی غصے کی لپیٹ میں آئے اور ان کی رہائش گاہ پر مظاہرین نے شدید تشدد کیا۔
نیپال کے سابق وزیراعظم شیر بہادر دیوبا ' ان کی اہلیہ اور وزیر خارجہ آرزو رانا دیوبا کی اپنی رہائش گاہ میں مظاہرین کے ہاتھوں بیرحمی سے ٹھکائی
جب عوام فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لیں تو حفاظتی دیواریں اور حفاظتی پہرے نہیں بچا سکتے pic.twitter.com/FPpWq2bEC7— Shafqat Ch (@shafqatmm1) September 9, 2025
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو کہتے سنا جا سکتا ہےکہ اسے نہ توڑو بھائی یہ عوام کے پیسے سے بنا ہے جبکہ دوسرا نوجوان جواب دیتا ہے کوئی بات نہیں بھائی، ہم پھر بنا لیں گے۔
وزیراعظم نیپال کی بھتیجی کے بارے میں بہت خطرناک خبریں ہیں۔ pic.twitter.com/e9rDo10ipL
— Sabee Kazmi (@SabeeKazmi786) September 9, 2025
یہ جملے اس عوامی بغاوت کی عکاسی کرتے ہیں جسے نوجوان نسل، بالخصوص جنریشن زی، انقلاب کا نام دے رہی ہے۔
نیپال منسٹرز کے گھروں کا یہ حال ہو رہا ہے یہ جو آٹھ سو فیصد تنخواہیں بڑھا لیتے جون میں بڑھی تنخواہ جنوری سے لے لیتے ان کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کا جینا حرام نا کریں سب فوائد الیٹ میں مت بانٹیں ورنہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے pic.twitter.com/qiowNdsvKr
— RAShahzaddk (@RShahzaddk) September 10, 2025
مظاہرین کی جانب سے وزراء کے گھروں پر حملے، جلاؤ گھیراؤ اور حکومتی شخصیات پر تشدد کے مناظر نے نیپال کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نیپالیوں نے ویگو ڈالے کے ساتھ انتہائی سفاکی سے زیادتی کی،
اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟؟؟ pic.twitter.com/vYbhxqWY64— ZEShan ⚫ (@zeshmohmand) September 10, 2025
یہاں تک کہ وزیراعظم کی بھتیجی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات اور خطرناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مظاہرین نے سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیورز کو بھی وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
نوجوان: اسے نہ توڑو بھائی یہ عوام کے پیسے سے بنا ھے، اپنے پیسے سے بنا ھے
دوسرا نوجوان: کوئی بات نہیں بھائی، ہم پھر بنا لیں گے 😂
انقلاب اور جنریشن Z زندہ باد ✊️#NepalGenZProtest pic.twitter.com/w5NtimILg0— پری زاد (@Parizaad_reborn) September 9, 2025
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








