ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے خدشات درست؟ 55 ارب روپے کی شاہراہِ بھٹو 130 ملی میٹر بارش برداشت نہ کرسکی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد شاہراہِ بھٹو کا زیرِ تعمیر حصہ سیلابی پانی سے متاثر ہو گیا۔ برساتی پانی سڑک کا کچھ حصہ بہا کرلے گیاجس کے باعث علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سڑک ملیر ندی کے درمیان تعمیر کی گئی ہے جس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور پانی اطراف کی آبادیوں میں داخل ہو گیا۔

حکومت سندھ کی وضاحت

سندھ حکومت کے ترجمان نادر نبیل گبول نے کہا ہے کہ شاہراہِ بھٹو پر کوئی شگاف نہیں پڑا بلکہ پانی کے اخراج کے لیے عارضی کٹ لگایا گیا ہے۔

ترجمان نادر نبیل گبول نے کہا کہ یہ سڑک ابھی زیرِ تعمیر ہے اور عوام کے لیے کھلی نہیں ہے، پانی کی نکاسی کا مستقل نظام بنایا جائے گا۔

منصوبے کی لاگت اور مالی صورتحال

شاہراہِ بھٹو جسے ملیر ایکسپریس وے بھی کہا جاتا ہے کراچی کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔ اس کی کل لمبائی 39 کلومیٹر ہے جبکہ تخمینہ لاگت 54 سے 55 ارب روپے رکھی گئی ہے۔

حکومتی فنڈنگ: تقریباً 31 ارب روپے

نجی سرمایہ کاری و قرضے: تقریباً 23 ارب روپے

منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت مکمل کیا جا رہا ہے۔

عالمی فنڈنگ سے محرومی

ابتدائی طور پر توقع تھی کہ اس منصوبے میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) مالی معاونت فراہم کرے گا لیکن اے ڈی بی نے ماحولیاتی خدشات کی بنیاد پر فنڈنگ سے انکار کر دیا۔ بینک کے مطابق سڑک کی تعمیر قدرتی ندی کے بہاؤ میں مداخلت ہے جو ماحول اور مقامی آبادی کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے۔

Director General Sindh Environmental Protection Agency Naeem Mughal visits Malir Expressway on April 19, 2023. — Twitter/@SindhEco
Director General Sindh Environmental Protection Agency Naeem Mughal visits Malir Expressway on April 19, 2023. — Twitter/@SindhEco

بجٹ کی صورتحال

رواں مالی سال میں سندھ حکومت نے کراچی کے مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے 236 ارب روپے مختص کیے ہیں جن میں شاہراہِ بھٹو بھی شامل ہےجبکہ شاہراہِ بھٹو کے ساتھ کورنگی کازوے انٹرچینج کی تعمیر کے لیے 1.89 ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔

حالیہ سیلابی صورتحال

بارشوں کے بعد تھڈو ڈیم کا پانی ملیر ندی میں داخل ہوا جس کے بعد لیاری اور ملیر ندیاں بپھر گئیں۔ متعدد رہائشی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور کئی مقامات پر پانی نکالنے کے لیے پمپس لگائے جا چکے ہیں۔

شاہراہِ بھٹو کراچی کا اہم ترقیاتی منصوبہ ہے لیکن حالیہ بارشوں اور ماحولیاتی خدشات کے باعث یہ منصوبہ تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر مکمل نہیں ہوئی اور نکاسی کا مؤثر نظام بنایا جائے گا۔

Related Posts