گوجرانوالہ کے علاقے پیپلز کالونی میں ایک لرزہ خیز واقعہ پیش آیا جہاں بھتیجے نے مبینہ طور پر توہینِ رسالت کا الزام لگا کر اپنی 30 سالہ پھوپھی کو تیز دھار آلے کے وار سے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق ملتان کے رہائشی ملزم غلام مرسلین نے واردات کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی تاہم علاقہ مکینوں نے اسے قابو کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اپنی حراست میں لے لیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم نے جائے وقوعہ پر موجود افراد کے سامنے جرم کا اعتراف کیا ہے تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا بیان تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام شواہد اور بیانات کی روشنی میں واقعے کی غیر جانب دارانہ تفتیش جاری ہے۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جو واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے اہلِ خانہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور جائے وقوعہ سے تمام ضروری شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی ہے جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مجرم کو سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








