فارس نیوز ایجنسی کے مطابق صیہونی اخبار “ٹائمز آف اسرائیل” نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو حماس اور حزب اللہ سے ممکنہ جنگ سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو ایک ساتھ کئی محاذوں پر تناو پیدا ہونے سے خوفزدہ ہے لہذا اس نے اپنی کابینہ میں شامل وزیروں کو سختی سے ایسے بیانات دینے سے منع کیا ہے جن کا نتیجہ حماس اور حزب اللہ سے ٹکراو کی صورت میں نکلتا ہو۔
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ تل ابیب ایک ساتھ کئی محاذوں پر نہیں لڑ سکتا اور اب جبکہ ہم اندرونی سطح پر شدید اختلافات سے روبرو ہیں ہمیں حزب اللہ اور حماس سے ٹکر لینے سے گریز کرنا چاہئے۔ عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ بن یامین نیتن یاہو نے وزیر جنگ یوآو گالانت، وزیر جنگ، الی کوہن، وزیر خارجہ، ایتمار بن گویر، وزیر داخلہ اور ران درمر، وزیر اسٹریٹجک امور کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں اس بات پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
یوکرینی صدر کی مسلمان فوجیوں کے اعزاز میں افطار پارٹی
صیہونی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے عدلیہ میں اصلاحات سے متعلق منصوبہ پیش کیا تھا جس کے بعد مقبوضہ فلسطین گذشتہ کئی ماہ سے شدید بدامنی اور عوامی احتجاج کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ ایسی صورتحال میں نیتن یاہو نے کہا: “اسرائیل کو وسیع سطح کے ٹکراو میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہئے اور ایک متحدہ محاذ پیش کرنا چاہئے۔” دوسری طرف صیہونی چینل 12 نے بھی اس مشاورتی اجلاس کے بارے میں رپورٹ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنجمن نیتن یاہو نے اس اجلاس میں کہا: “ہمارے درمیان دیگر امور کے بارے میں کافی حد تک اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ہم ہر طرف سے، چاہے اپنے مخالفین کی جانب سے چاہے سڑکوں پر موجود عوام کی جانب سے، چیلنجز سے روبرو ہیں۔” چینل 12 نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ نیتن یاہو نے تل ابیب کو درپیش سکیورٹی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: “ہمیں کابینہ میں غیر ضروری اختلافات سے پرہیز کرنی چاہئے۔ حکومتی اتحاد کو اپنی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔”
ایک طرف صیہونی کابینہ میں سیکورٹی سے متعلق خدشات سامنے آ رہے ہیں جبکہ صہیونی فوج نے دو دن پہلے غزہ پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق صیہونی جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں اسلامی مزاحمت سے وابستہ ایک بیس کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔ کچھ ہی گھنٹے بعد صیہونی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں کچھ مقامات پر بمباری کی جس کے بعد حزب اللہ لبنان نے صیہونی رژیم کو شدید وارننگ دی۔
فلسطین میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں جنوبی لبنان کے شہر صور پر صیہونی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: “یہ بمباری صیہونی حکام کے وحشی پن کو ظاہر کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ ان کی پالیسیاں خطے کے امن اور سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔” عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ نے بھی غزہ اور جنوبی لبنان پر صیہونی جارحیت کے بعد “صیہونی رژیم کی جارحیت روکنے کیلئے فوری اقدامات” انجام دینے پر زور دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








